۲۱۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ ، وَابْنُ سَمْعَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : ( ذَہَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی امْرَأَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَہٗ أَصْحَابُہٗ فَقَرَّبَتْ لَہُمْ شَاۃً مَصْلِیَّۃً فَأَکَلَ وَأَکَلْنَا ثُمَّ حَانَتِ الظُّہْرُ فَتَوَضَّأَ وَصَلّٰی ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی فَضْلِ طَعَامِہٖ فَأَکَلَ، ثُمَّ حَانَتَ الْعَصْرُ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ صَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ بِوُضُوْئِہِ الَّذِیْ کَانَ فِیْ وَقْتِ الظُّہْرِ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ وُضُوْئُ ہٗ لِکُلِّ صَلَاۃٍ عَلٰی مَا رَوَی ابْنُ بُرَیْدَۃَ ، کَانَ ذٰلِکَ عَلَی الْتِمَاسِ الْفَضْلِ لَا عَلَی الْوُجُوْبِ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَہَلْ فِیْ ھٰذَا مِنْ فَضْلٍ فَیَلْتَمِسُ قِیْلَ لَہٗ : نَعَمْ۔
٢١٥ : حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک انصاریہ کے ہاں اپنے بعض صحابہ (رض) سمیت تشریف لے گئے اس انصاریہ (رض) نے آپ کی خدمت میں بکری کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا جس میں سے آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا پھر ظہر کا وقت ہوگیا تو آپ نے وضو کیا اور نماز ادا فرمائی پھر بقیہ کھانے کی طرف دوبارہ لوٹے اور اسے کھایا پھر عصر کا وقت ہوگیا تو آپ نے صحابہ کو نماز پڑھائی اور دوبارہ وضو نہیں کیا۔ امام ابوجعفر طحاوی (رح) ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر و عصر کی نماز ظہر والے وضو سے ادا فرمائی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرنا حصول فضیلت کے لیے ہو ‘ وجوب و لزوم کے طور پر نہ ہو۔ جیسا کہ ابن بریدہ (رض) کی روایت میں موجود ہے۔ اگر کوئی معترض یہ کہنے لگے کہ اس میں کیا فضیلت ہے کہ جس کو تلاش کیا جائے ؟ تو ہم عرض کریں گے جی ہاں ! اس میں فضیلت ملاحظہ ہو۔
تخریج : ترمذی فی الطھارۃ باب ٥٩ روایت ٨٠۔
طحاوی فرماتے ہیں یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ آپ نے ظہر و عصر کو ایک وضو سے ادا فرمایا اور وہ ظہر والا وضو تھا اور گزشتہ روایات کے متعلق جیسا کہہ آئے کہ وہ حصول فضیلت کے لیے تھا نہ کہ وجوب کے لیے جیسا کہ فریق اول کو دھوکا ہوا۔
سوال : کیا یہ بھی فضیلت ہے کہ جس کو حاصل کرنا ہے۔
جواب : یہ بالکل فضیلت ہے جو مندرجہ ذیل روایات سے ثابت ہے۔