hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2148

.

الطحاوي

2148
Al Tahawi
۲۱۴۸: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ .فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ نَحْوَہٗ، غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَقُلْ (ثَلاَثَ مَرَّاتٍ) .فَلِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُخْرٰی عَلٰی أَہْلِ ھٰذِہِ الْمَقَالَۃِ أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا کَرِہَ ذٰلِکَ لِأَنَّہٗ صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ‘ ثُمَّ وَصَلَہُمَا بِصَلَاۃِ الصُّبْحِ‘ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَکُوْنَ تَقَدَّمَ أَوْ تَکَلَّمَ .فَإِنْ کَانَ لِذٰلِکَ قَالَ لَہٗ مَا قَالَ‘ فَإِنَّ ھٰذَا حَدِیْثٌ یَجْتَمِعُ الْفَرِیْقَانِ عَلَیْہِ جَمِیْعًا .فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ‘ ہَلْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ شَیْئٌ یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ؟
٢١٤٨: شعبہ نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ ثلاث مرست کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ مقالہ دوم والوں کی طرف سے جواب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اس لیے ناپسند فرمایا کہ اس شخص نے دو رکعت پڑھ کر انھیں نماز صبح کے ساتھ ملا دیا ‘ نہ وہاں سے آگے سرکا اور نہ اس نے درمیان میں کوئی گفتگو کی۔ اگر اس بنیاد پر تنبیہ فرمائی تو اس حدیث پر ہر دو فریق کا اتفاق ہوسکتا ہے۔ ہم نے چاہا کہ یہ غور کریں کہ آیا اس دلالت کرنے والی کوئی روایت میسر ہے تو غور کرنے سے یہ روایت ذی میسر آگئی۔
حاصل روایات : ان روایات کا حاصل یہ ہے کہ نماز فجر کے ساتھ دو رکعت پڑھنے کو آپ نے فرائض کو دو کی بجائے چار رکعت بنانے والا قرار دے کر ڈانٹا۔۔ تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ فرائض سے کسی چیز کو نہ ملانا چاہیے تکبیر سے پہلے نماز سنت درست ہوگی۔
جواب روایت :
شاید آپ نے اس شخص کی حرکت کو اس لیے ناپسند فرمایا ہو کہ اس نے بلا فاصلہ دو رکعت نماز صبح سے ملا دی اور درمیان میں نہ تو کلام سے فاصلہ کیا یا اپنی جگہ سے ادھر ادھر ہٹا اگر روایت سے یہی مراد لی جائے تو پھر ہر دو فریق کے ہاں یہ مسلمہ چیز ہے کسی کو اس سے انکار نہیں تو اختلافی چیز کے لیے اس روایت سے استدلال باقی نہ رہا۔
اب روایات پر نظر دوڑاتے ہیں کہ وہ کس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔