۲۱۴۹: فَإِذَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَدْ حَدَّثَنَا‘ قَالَ : ثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ‘ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَیْنَۃَ‘ وَہُوَ مُنْتَصِبٌ أَیْ قَائِمٌ یُصَلِّیْ ثَمَّۃَ بَیْنَ یَدَیْ نِدَائِ الصُّبْحِ فَقَالَ : لَا تَجْعَلُوْا ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ کَصَلَاۃٍ قَبْلَ الظُّہْرِ وَبَعْدَہَا وَاجْعَلُوْا بَیْنَہُمَا فَصْلًا) .فَبَیَّنَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ أَنَّ الَّذِیْ کَرِہَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِابْنِ بُحَیْنَۃَ‘ ہُوَ وَصْلُہُ إِیَّاہَا بِالْفَرِیْضَۃِ فِیْ مَکَان وَاحِدٍ‘ لَمْ یَفْصِلْ بَیْنَہُمَا بِشَیْئٍ وَلَیْسَ لِأَنَّہٗ کَرِہَ لَہٗ أَنْ یُصَلِّیَہَا فِی الْمَسْجِدِ اِذَا کَانَ فَرَغَ مِنْہَا تَقَدَّمَ إِلَی الصُّفُوْفِ‘ فَصَلَّی الْفَرِیْضَۃَ مَعَ النَّاسِ .وَقَدْ رُوِیَ مِثْلُ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ .
٢١٤٩: یحییٰ بن ابی کثیر نے محمد بن عبدالرحمن سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر عبداللہ بن مالک ابن بحینہ کے پاس سے ہوا وہ کھڑے اس جگہ صبح کی اذان سے پہلے نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا اس نماز کو ایسا مت بناؤ جیسا کہ نماز ظہر سے پہلے کی نماز ہوتی ہے اور اس کے بعد کی ہوتی ہے بلکہ ان کے مابین فاصلہ کرو۔ پس اس روایت نے یہ بات کھول دی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت بحینہ (رض) کا فرض اور سنتوں کو ایک جگہ پر ملا کر ادا کرنا پسند نہ آیا کہ ان میں تفریق کرنے والا کوئی عمل پیش نہ آیا۔ آپ نے اس بات کو ناپسند نہیں فرمایا کہ وہ مسجد میں سنتیں پڑھ کر آگے صفوف کی طرف بڑھیں۔ اس ضمن میں اس روایت کے علاوہ بھی روایت آئی ہے۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٣٤٥۔
حاصل روایات : اس روایت نے ثابت کردیا کہ ابن بحینہ کی جو بات آپ کو ناپسند ہوئی وہ ایک ہی جگہ میں فرائض کے ساتھ اس کا جمع کرنا تھا یہ وجہ نہ تھی کہ آپ نے ان رکعات کا مسجد میں پڑھنا ناپسند کیا تھا جب اس فارغ ہوئے تو وہ صفوف میں آگے بڑھ گئے اور فرض لوگوں کے ساتھ ادا کئے۔
جواب : اور اس روایت کے علاوہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
روایات ملاحظہ ہوں۔