۲۱۵۲: حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ‘ عَنْ صَفْوَانَ‘ مَوْلٰی عُمَرَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (لَا تَکَاثِرُوا الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ بِمِثْلِہَا مِنَ التَّسْبِیْحِ فِیْ مَقَامٍ وَاحِدٍ) .فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذِہِ الْأَحَادِیْثِ‘ أَنْ یُوْصِلَ الْمَکْتُوْبَۃَ بِنَافِلَۃٍ‘ حَتّٰی یَکُوْنَ بَیْنَہُمَا فَاصِلٌ مِنْ تَقَدُّمٍ إِلٰی مَکَان آخَرَ‘ أَوْ غَیْرَ ذٰلِکَ وَاحْتَجَّ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِقَوْلِہِمْ أَیْضًا .
٢١٥٢: صفوان مولیٰ عمر نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرض نماز کا اس کی مثل سے کثرت میں تقابل مت کرو تسبیحات میں اور مقام میں (بلکہ جگہ اور تعداد ‘ طوالت ‘ قصر میں فرق کرلیا کرو) ۔ پس ان تمام روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرض و نفل کو ملانے کی ممانعت فرمائی ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ان کے مابین آگے پیچھے یا اور کسی چیز سے فاصلہ کرلے۔
حاصل روایات : پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان روایات میں فرض کو نوافل کے ساتھ ملانے سے منع فرمایا۔ جب تک کہ تقدم و تاخر سے فاصلہ نہ کیا جائے تو اس سے ثابت یہ ہوا کہ ان روایات میں جس وصل کی ممانعت ہے ‘ ابن بحینہ کی روایت میں وہی مراد ہے۔