۲۱۵۳: بِمَا حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ‘ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ‘ عَنْ عَاصِمِ ڑ الْأَحْوَلِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّ (رَجُلًا جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ‘ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ) (فِیْ حَدِیْثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ (خَلْفَ النَّاسِ ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ .فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاتَہٗ، قَالَ : یَا فُلَانُ‘ اجْعَلْتَ صَلَاتَکَ الَّتِیْ صَلَّیْتُ مَعَنَا‘ أَوْ الَّتِیْ صَلَّیْت وَحْدَک؟) .
٢١٥٣: عاصم احول کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سرجس (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اس وقت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز صبح میں مصروف تھے پس اس نے دو رکعت نماز ادا کی (حماد بن سلمہ کی روایت میں خلف الناس کا لفظ بھی ہے) پھر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز میں داخل ہوگیا پس جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا اے فلاں ! کیا تم نے وہ نماز جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے وہ اپنی نماز قرار دی ہے یا وہ جو اکیلے پڑھی ہے اس کو اپنی نماز قرار دیا ہے ؟
تخریج : مسلم فی المسافرین نمبر ٦٧‘ ابو داؤد فی التطوع باب ٥‘ نمبر ١٢٦٥۔