hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2159

.

الطحاوي

2159
Al Tahawi
۲۱۵۹: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدُ الْمُؤْمِنَ الْخُرَاسَانِیُّ‘ قَالَ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ شَقِیْقٍ‘ قَالَ أَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ‘ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ النَّحْوِیُّ‘ عَنْ أَبِیْ مِجْلَزٍ‘ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِیْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ‘ وَالْاِمَامُ یُصَلِّی .فَأَمَّا ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَدَخَلَ فِی الصَّفِّ‘ وَأَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ‘ ثُمَّ دَخَلَ مَعَ الْاِمَامِ‘ فَلَمَّا سَلَّمَ الْاِمَامُ قَعَدَ ابْنُ عُمَرَ مَکَانَہٗ، حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ‘ فَقَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ .فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فِی الْمَسْجِدِ وَالْاِمَامُ فِیْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ .وَقَدْ رَوٰی شُعْبَۃُ مَوْلَاہُ عَنْہُ أَنَّہٗ کَانَ یَأْمُرُ النَّاسَ بِالْفَصْلِ بَیْنَ الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ وَقَدْ عَدَّ نَفْسَہُ - اِذَا صَلّٰی رَکْعَتَیَ الْفَجْرِ فِیْ بَعْضِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلَ فِی النَّاسِ فِی الصَّلَاۃِ - فَاصِلًا بَیْنَہُمَا‘ فَکَذٰلِکَ نَقُوْلُ .
٢١٥٩: ابو مجلز کہتے ہیں کہ میں فجر کے وقت ابن عمر (رض) کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اور ابن عباس (رض) بھی ساتھ تھے۔ اس وقت امام نماز پڑھا رہا تھا ۔ حضرت ابن عمر (رض) تو صف میں داخل ہوگئے اور ابن عباس (رض) نے دو رکعت سنت ادا کی پھر امام کے ساتھ نماز میں داخل ہوئے جب سلام پھیرا تو ابن عمر (رض) اپنی جگہ بیٹھ گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا پھر اٹھے اور دو رکعت سنت ادا کی۔
حاصل روایات : یہ ابن عباس (رض) مسجد میں فجر کی دو رکعت پڑھ رہے ہیں جبکہ امام مسجد میں نماز پڑھا رہا ہے۔
نیز شعبہ مولیٰ ابن عباس (رض) نے نقل کیا کہ وہ لوگوں کو فرائض و نوافل میں فاصلے کا حکم فرماتے اور انھوں نے اپنے طور پر یہ طے فرمایا تھا کہ جب آدمی فجر کی دو رکعت مسجد کے کسی حصہ میں ادا کرے پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل ہوجائے تو یہ شخص فاصلہ کرنے والا سمجھا جائے گا اور ہمارے ہاں بھی یہی ہے۔
ابن عباس (رض) سے مزید روایت ملاحظہ ہو۔