hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 217

.

الطحاوي

217
Al Tahawi
۲۱۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : ( أُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِوَضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ مِنْہُ فَقُلْتُ لِأَنَسٍ : أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ .قُلْتُ : فَأَنْتُمْ ؟ قَالَ : کُنَّا نُصَلِّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوْئٍ). فَھٰذَا أَنَسُ قَدْ عَلِمَ حُکْمَ مَا ذَکَرْنَا مِنْ فِعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ یَرَ ذٰلِکَ فَرْضًا عَلٰی غَیْرِہٖ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ وَہُوَ وَاجِبٌ ثُمَّ نُسِخَ ، فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ، ہَلْ نَجِدُ شَیْئًا مِنَ الْآثَارِ یَدُلُّ عَلٰی ھٰذَا الْمَعْنٰی .
٢١٧ : عمرو بن عامر حضرت انس (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں وضو کا پانی لایا گیا آپ نے اس سے وضو کیا میں نے انس (رض) سے سوال کیا کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے لیے وضو فرماتے تھے ؟ تو انھوں نے جواب دیا جی ہاں میں نے کہا کیا تم بھی ؟ تو انس کہنے لگے ہم تمام نمازیں ایک وضو سے پڑھتے تھے۔ یہ حضرت انس (رض) ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل سے وہی حکم معلوم کیا جس کا ہم نے تذکرہ کیا ہے اور انھوں نے اس کو دوسروں پر فرض قرار نہیں دیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ کہا کہ اس وقت یہ واجب تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ اس بات پر غور کرنے کے لیے ہم ایسے آثار تلاش کرتے ہیں جو اس معنیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔
تخریج : بخاری فی الوضوء باب ٥٤
امام طحاوی (رح) کا اشارہ :
یہ روایت جو ہم نے حضرت انس (رض) کے حوالہ سے نقل کی ہے اس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل کا تذکرہ ہے حضرت انس (رض) نے اس فعل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وضو کو ہر نماز کے لیے نہ فرض سمجھا اور نہ فرض قرار دیا بلکہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے فضل سمجھا۔
ایک احتمال :
فعل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس طرح حصول فضل کا احتمال ہے تو یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آپ پر پہلے واجب ہو اور پھر منسوخ ہوگیا ہو اس احتمال کی تائید میں آثار میں تلاش کرنے پر مندرجہ ذیل ابو داؤد کی روایت سامنے آئی۔