۲۱۶ : قَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ عَنْ أَبِیْ غُطَیْفِ ڑالْہُذَلِیِّ قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الظُّہْرَ فَانْصَرَفَ فِیْ مَجْلِسٍ فِیْ دَارِہٖ فَانْصَرَفْتُ مَعَہٗ حَتّٰی اِذَا نُوْدِیَ بِالْعَصْرِ دَعَا بِوَضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَہٗ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی مَجْلِسِہٖ وَرَجَعْتُ مَعَہٗ حَتَّی اِذَا نُوْدِیَ بِالْمَغْرِبِ دَعَا بِوَضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ .فَقُلْتُ لَہٗ : أَیُّ شَیْئٍ ھٰذَا یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ الْوُضُوْئُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ ؟ فَقَالَ : وَقَدْ فَطِنْتُ لِھٰذَا مِنِّی ؟ لَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ إِنْ کَانَ لَکَافٍ وُضُوْئِی لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ صَلَوَاتِی کُلَّہَا ؛ مَا لَمْ أُحْدِثْ ؛ وَلٰـکِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : ( مَنْ تَوَضَّأَ عَلَی طُہْرٍ کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗ بِذٰلِکَ عَشْرَ حَسَنَاتٍ) فَفِیْ ذٰلِکَ رَغِبْتُ یَا ابْنَ أَخِیْ.فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا فَعَلَ مَا رَوٰی عَنْہُ ابْنُ بُرَیْدَۃَ لِاِصَابَۃِ ھٰذَا الْفَضْلِ، لَا لِأَنَّ ذٰلِکَ کَانَ وَاجِبًا عَلَیْہِ .وَقَدْ رَوٰی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَیْضًا ، مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .
٢١٦ : ابو غطیف ھذلی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ نماز ظہر ادا کی پھر وہ گھر میں اپنے بیٹھنے کی جگہ آگئے میں بھی ان کے ساتھ آیا یہاں تک کہ جب عصر کی اذان ہوئی تو انھوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا پھر وہ بھی نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ نکلا اور عصر کی نماز ان کی معیت میں پڑھ کر اپنی مجلس کی طرف لوٹے تو میں بھی ان کے ساتھ لوٹا یہاں تک کہ جب مغرب کی اذان ہوئی تو انھوں نے پانی منگوا کر وضو کیا میں نے کہا اے ابو عبدالرحمن یہ کیا ہے ؟ ہر نماز کے لیے وضو ؟ تو فرمانے لگے کیا تو میری یہ بات سمجھ گیا ؟ یہ سنت نہیں ہے اگرچہ میرا صبح کی نماز والا وضو تمام نمازوں کے لیے کافی ہے جب تک کہ میں حدث میں مبتلا نہ ہوں لیکن میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جس نے طہارت (وضو ہوتے ہوئے) وضو کیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے بدلے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں۔ اے میرے بھتیجے اسی وجہ سے میں نے اس کی طرف رغبت و شوق کا اظہار کیا۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٣٢‘ روایت ٦٢‘ ترمذی فی الطھارۃ باب ٤٤‘ روایت ٥٩‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٧٣‘ روایت ٥١٢۔
امام طحاوی (رح) کا اشارہ :
حضرت بریدہ (رض) والی روایت سے کئے جانے والے استدلال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ نے حصول فضیلت کے لیے ہر نماز کے لیے وضو کیا بالکل اسی طرح حضرت بریدہ (رض) نے اس فضیلت کے حصول کے لیے ایسا کیا ہو اس بناء پر نہیں کہ وضو ہر نماز کے لیے فرض واجب تھا اور اس پر استشہاد کے لیے مندرجہ ذیل روایت ملاحظہ ہو۔