۲۱۷۷: مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوُد‘ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ عَبَّادٍ‘ قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ‘ عَنْ مُوْسٰی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ((اِذَا صَلَّیْ أَحَدُکُمْ فَلْیَلْبَسْ ثَوْبَیْہِ‘ فَإِنَّ اللّٰہَ أَحَقُّ مَنْ یُزَّیَّنَ لَہٗ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہٗ ثَوْبَانِ‘ فَلْیَتَّزِرْ اِذَا صَلَّی‘ وَلَا یَشْتَمِلُ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہِ اشْتِمَالَ الْیَہُوْدِ)
٢١٧٧: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنا کپڑا پہنے پس اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کے لیے زینت کی جائے اگر دو کپڑے میسر نہ ہوں تو ایک کپڑے کو بطور ازار استعمال کرے جبکہ وہ نماز پڑھنے لگے اور یہود کی طرح اپنے آپ کو پورے ایک کپڑے میں نہ لپیٹ دے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کچھ علماء اس طرف گئے ہیں کہ جس شخص کو دو کپڑوں کی قدرت ہو اسے ایک کپڑے میں نماز مکروہ ہے اور جس شخص کو ایک کپڑے کی قدرت ہو اسے کپڑے کو مکمل طور پر لپیٹ کر پڑھنا مکروہ ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ اسے ازار کے طور پر باندھ لے۔ انھوں نے اس روایت کو بطور دلیل پیش کیا ہے اور کہا کہ یہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہوا ہے اور انھوں نے مندرجہ ذیل روایات ذکر کیں۔
تخریج : بیہقی ٢؍٣٢٣۔