۲۱۸۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُکَیْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا مَالِکٌ‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ کَسَا نَافِعًا ثَوْبَیْنِ‘ فَقَامَ یُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَعَابَ ذٰلِکَ عَلَیْہِ وَقَالَ : (احْذَرْ ذٰلِکَ فَإِنَّ اللّٰہَ أَحَقُّ أَنْ یُتَجَمَّلَ لَہٗ) .وَخَالَفَ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِالصَّلَاۃِ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
٢١٨٠: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی کہ میں نے نافع کو دو کپڑے پہنائے مگر وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے لگے تو میں نے ان کو کو سا اور کہا آئندہ اس سے محتاط رہو۔ اللہ تعالیٰ کا زیادہ حق ہے کہ اس کے لیے زینت اختیار کی جائے۔
تخریج : موطا ومالک۔
حاصل کلام : یہ ہوگا کہ فریق اوّل کی روایات اول تو موقوف ہیں اور جو ان میں مرفوع ہیں وہ ان کے مقصد کے لیے کافی نہیں پس ایک کپڑے میں نماز کی ممانعت یا توشح و اشتمال کی ممانعت شدیدہ ہرگز ثابت نہ سکے گی۔
فریق ثانی کے دلائل اور ان کا مؤقف :
ایک کپڑے میں نماز درست ہے جبکہ دو کپڑے میسر نہ ہوں۔ روایات ملاحظہ ہوں۔