hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2179

.

الطحاوي

2179
Al Tahawi
۲۱۷۹: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوُد‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ‘ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : رَأَیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ رَجُلًا یُصَلِّی‘ مُلْتَحِفًا‘ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ - حِیْنَ سَلَّمَ - لَا یُصَلِّیَنَّ أَحَدُکُمْ مُلْتَحِفًا‘ وَلَا تَشَبَّہُوْا بِالْیَہُوْدِ‘ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لِأَحَدِکُمْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ‘ فَلْیَتَّزِرْ بِہٖ .فَھٰذَا سَالِمٌ‘ وَہُوَ أَثْبَتُ مِنْ نَافِعٍ وَأَحْفَظُ‘ إِنَّمَا رَوٰی ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ‘ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَارَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ، لَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَرَوَاہُ مَالِکٌ‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ قَوْلِہٖ، وَلَمْ یَذْکُرْ فِیْہِ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَلَا عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٢١٧٩: سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا کہ عمر (رض) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے دریافت کیا جبکہ اس نے سلام پھیرلیا ایک کپڑے میں لپٹ کر ہرگز نماز مت پڑھا کرو یہود کی مشابہت مت کرو اگر تمہارے پاس ایک ہی کپڑا ہو تو اس کو بطور ازار باندھ لو۔ یہ سالم ہیں جو نافع سے زیادہ حافظ ‘ ضابط ہیں۔ انھوں نے یہ ابن عمر (رض) کی وساطت سے حضرت عمر (رض) سے موقوف نقل کی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوع نہیں۔ پھر یہ اثر عمر (رض) ہے ‘ـ حدیث نبوی نہیں ہے اور امام مالک (رح) نے اسے ابن عمر (رض) کے قول کے طور پر نقل کیا اور اس کو مرفوع روایت یا قول عمر (رض) بھی قرار نہیں دیا۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٢٧٨۔
لیجئے : یہ سالم بن عبداللہ جو کہ نافع سے زیادہ احفظ و اثبت ہیں وہ اس کو عمر (رض) سے بیان کر رہے ہیں نہ کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پس اس کا موقوف ہونا ثابت و ظاہر ہوگیا۔
بلکہ امام مالک نے اس کو ابن عمر (رض) سے بیان کیا ہے اس کو جناب عمر (رض) یا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھی منسوب نہیں کیا (جس سے اس کا قول ابن عمر (رض) ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
روایت مؤطا یہ ہے۔