hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2210

.

الطحاوي

2210
Al Tahawi
۲۲۱۰: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ‘ وَشُعْبَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ (عُمَرَ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ‘ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ‘ مُخَالِفًا بَیْنَ طَرَفَیْہِ) .فَقَدْ تَوَاتَرَتْ ھٰذِہِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ‘ مُتَوَشِّحًا بِہٖ، فِیْ حَالِ وُجُوْدِ غَیْرِہٖ .وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ فِیْ بَعْضِ ھٰذِہِ الْأَحَادِیْثِ أَنَّہٗ صَلّٰی وَثِیَابُہُ عَلَی الْمِشْجَبِ‘ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ‘ مُتَوَشِّحًا بِہٖ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ عَلٰی مَا اتَّسَعَ مِنَ الثِّیَابِ خَاصَّۃً‘ لَا عَلٰی مَا ضَاقَ مِنْہَا‘ وَیَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ عَلَی کُلِّ الثِّیَابِ‘ مَا ضَاقَ مِنْہَا وَمَا اتَّسَعَ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ‘ فَإِذَا أَبُوْ زُرْعَۃَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ‘ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ :
٢٢١٠: عروہ نے عمر بن ابی سلمہ (رض) سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا اس طرح کہ آپ نے اس کپڑے کی دونوں طرفوں کو مختلف اطراف میں کر رکھا تھا (جیسا باندھتے وقت کرتے ہیں)
تخریج : سابقہ نمبر ٢٢٠٦ کی تخریج ملاحظہ کریں۔
حاصل روایات و آثار : ان آثار سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایک کپڑے میں نماز بلاکراہت درست ہے اس ایک کپڑے میں لپٹ کر خواہ دوسرا کپڑا موجود ہو ممکن ہے کہ یہ اس کپڑے میں ہو جو کہ وسیع ہو نہ کہ اس میں جو تنگ ہو اور یہ بھی ممکن ہے تنگ و وسیع کی قید نہ ہو جتنا نماز کے لیے کفایت کرنے والا ہو۔
اب ایک جانب کی تعیین کے لیے روایات پر غور کرتے ہیں۔
ان متواتر روایات میں جن کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا گیا ہے کہ دوسرے کپڑے پانے کے باوجود آپ ایک کپڑے میں توشح کر کے نماز پڑھتے اور ایک روایت کے ضمن میں ایسی حالت میں آپ کا نماز پڑھنا بھی آیا ہے جبکہ آپ کے کپڑے کھونٹے پر لٹکے تھے۔ اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ نماز کھلے کپڑے میں ہو اور تنگ کپڑے میں نہ ہو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر کپڑے میں ہو خواہ وہ تنگ ہو یا وسیع۔ پس اس سلسلہ میں غور و فکر کیا تو حضرت ابو زرعہ کی روایت مل گئی جو ذیل میں ہے۔