۲۲۱۱: ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِیْفَۃَ‘ عَنْ شُرَحْبِیْلَ بْنِ سَعِیْدٍ‘ قَالَ : ثَنَا جَابِرٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ : (اِذَا اتَّسَعَ الثَّوْبُ فَتَعَطَّفُ بِہٖ عَلٰی عَاتِقِک‘ وَإِذَا ضَاقَ فَاِتَّزِرْ بِہٖ ثُمَّ صَلِّ) .فَثَبَتَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ لْاِشْتِمَالَ ہُوَ الْمَقْصُوْدُ‘ وَأَنَّہٗ ہُوَ الَّذِیْ یَنْبَغِیْ أَنْ یُفْعَلَ فِی الثِّیَابِ الَّتِیْ یُصَلِّیْ فِیْہَا‘ وَإِذَا لَمْ یَقْدِرْ عَلَیْہِ لِضِیْقِ الثَّوْبِ‘ اتَّزَرَ بِہٖ .وَاحْتَجْنَا أَنْ نَنْظُرَ فِیْ حُکْمِ الثَّوْبِ الْوَاسِعِ‘ الَّذِیْ یَسْتَطِیْعُ أَنْ یَتَّزِرَ بِہٖ، وَیَشْتَمِلَ‘ ہَلْ یَشْتَمِلُ بِہٖ، أَوْ یَتَّزِرُ؟ وَکَیْفَ یَفْعَلُفَإِذَا یُوْنُسُ؟
٢٢١١: شرحبیل بن سعید کہتے ہیں حضرت جابر (رض) نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے جب کپڑا بڑا ہو تو اسے کندھے پر موڑ لو اور جب چھوٹا ہو تو اس کو بطور ازار باندھ لو پھر نماز ادا کرو۔ اس روایت سے ثابت ہوگیا کہ اصل مقصود کپڑا لپیٹنا ہے اور جن کپڑوں میں نماز ادا کررہا ہے۔ نماز والے کپڑوں میں یہی مناسب ہے اور جب کپڑے کی تنگی کی وجہ سے لپیٹنے کی قدرت نہ ہو تو بطور ازار کے استعمال کرلے۔ اب ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم کھلے کپڑے کا حکم معلوم کریں جس کو آدمی ازار اور اشتمال دونوں طرح استعمال کرسکتا ہو۔ کیا اس میں اشتمال کرے یا ازار کے طور پر استعمال کرے اور کیا کرے چنانچہ ذیل میں روایات ملاحظہ ہوں۔
تخریج : تخریج روایت نمبر ٢٢٠٦ کو ملاحظہ کریں۔
حاصل روایات : اس روایت سے ثابت ہوا کہ اصل مقصود کپڑے کو تمام جسم کو شامل ہونا ہے اور یہی کپڑا مناسب ہے جس میں نماز پڑھی جائے اور اس کی تنگی ہو تو پھر ازار بھی کفایت کر جائے گی۔
اشتمال و اتزار کا امتیاز :
روایت ملاحظہ ہوں۔