۲۲۲۶: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ‘ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوْہَبٍ‘ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِیْ ثَوْرٍ‘ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
مِثْلَہٗ.
٢٢٢٦: جعفر بن ابی ژور نے جابر بن سمرہ (رض) عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ اونٹوں کے باڑہ میں نماز مکروہ ہے اور انھوں نے ان آثار کو دلیل بنایا ہے۔ یہاں تک کہ بعض نے تو اس کے حکم میں غلطی کرتے ہوئے نماز کو فاسد قرار دیا۔ مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان مواقع میں نماز درست ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جن روایات میں اونٹ کے باڑوں میں نماز سے منع کیا گیا ہے ان کا معنی مخدوش ہے اور ممانعت کی وجہ میں بھی اشکال ہے۔ پس ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ اونٹوں والے عموماً اونٹ کے قریب ہی پیشاب پاخانہ کرلیا کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے اس کو پلید کردیتے ہیں۔ اس بناء پر آپ نے اونٹوں کے باڑے میں نماز سے منع فرمایا نہ کہ کسی اور وجہ سے اور یہ تو ایسی علت ہے جو ہر مقام پر نماز کے لیے مانع ہے اور بکریوں والے عادت یہ ہے کہ وہ بکریوں کے باڑے کو گندگی سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں بول و بزار سے باز رہتے ہیں۔ پس ان کے باڑے میں نماز کو درست قرار دیا گیا۔ شریک بن عبداللہ (رح) نے اسی طرح کہا ہے اور وہ اس روایت کی یہی تاویل کرتے ‘ اور یحییٰ بن آدم (رح) کا قول یہ ہے کہ نماز کی ممانعت کا یہ سبب ہرگز نہیں ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ اونٹ اچھل کود کرتے ہیں اور اس میں ہر سامنے آنے والے کو قتل و ہلاک کر ڈالتے ہیں۔ کیا تم یہ روایت میں نہیں پاتے کہ ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ جنات سے پیدا کیے گئے اور رافع بن خدیج (رض) نے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ” ان اونٹوں کے لیے وحشی پن ہے جیسا جنگل کے جانوروں میں وحشی پن ہوتا ہے “ اور یہ خطرہ بکریوں سے نہیں ہے۔ اس وجہ سے اونٹوں کے باڑے میں نماز سے ان اونٹوں کی حرکت کی وجہ سے روکا گیا اس بناء پر نہیں کہ ان کے پاس نجاست ہوتی ہے اور بکریوں کے پاس نہیں ہوتی۔ بکریوں کے باڑے میں نماز کو اس وجہ سے درست قرار دیا کیونکہ ان سے وحشی پن کا خطرہ نہیں ‘ جو اونٹوں سے ہے۔ روایات ملاحظہ ہوں۔