hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2227

.

الطحاوي

2227
Al Tahawi
۲۲۲۷: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ عَنْ مُبَارَکٍ عَنِ الْحَسَنِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (صَلُّوْا فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ‘ وَلَا تُصَلُّوْا فِیْ أَعْطَانِ الْاِبِلِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الصَّلَاۃَ فِیْ أَعْطَانِ الْاِبِلِ مَکْرُوْہَۃٌ‘ وَاحْتَجُّوْا بِھٰذِہِ الْآثَارِ‘ حَتّٰی غَلِطَ بَعْضُہُمْ فِیْ حُکْمِ ذٰلِکَ‘ فَأَفْسَدَ الصَّلَاۃَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَأَجَازُوْا الصَّلَاۃَ فِیْ ذٰلِکَ الْمَوْطِنِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ أَنَّ ھٰذِہِ الْآثَارَ الَّتِیْ نَہَتْ عَنِ الصَّلَاۃِ فِیْ أَعْطَانِ الْاِبِلِ‘ قَدْ تَکَلَّمَ النَّاسُ فِیْ مَعْنَاہَا‘ وَفِی السَّبَبِ الَّذِیْ کَانَ مِنْ أَجْلِہِ النَّہْیُ .فَقَالَ قَوْمٌ : أَصْحَابُ الْاِبِلِ مِنْ عَادَتِہِمْ التَّغَوُّطُ بِقُرْبِ اِبِلِہِمْ وَالْبَوْلُ‘ فَیُنَجِّسُوْنَ بِذٰلِکَ أَعْطَانَ الْاِبِلِ‘ فَنُہِیَ عَنِ الصَّلَاۃِ فِیْ أَعْطَانِ الْاِبِلِ لِذٰلِکَ‘ لَا لِعِلَّۃِ الْاِبِلِ‘ وَإِنَّمَا ہُوَ لِعِلَّۃِ النَّجَاسَۃِ الَّتِیْ تَمْنَعُ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیْ أَیِّ مَوْضِعٍ مَا کَانَتْ‘ وَأَصْحَابُ الْغَنَمِ مِنْ عَادَتِہِمْ تَنْظِیْفُ مَوَاضِعِ غَنَمِہِمْ‘ وَتَرْکُ الْبَوْلِ فِیْہِ وَالتَّغَوُّطُ‘ فَأُبِیْحَتِ الصَّلَاۃُ فِیْ مَرَابِضِہَا لِذٰلِکَ .ھٰکَذَا رُوِیَ عَنْ شَرِیْکِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہٗ کَانَ یُفَسِّرُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَلٰی ھٰذَا الْمَعْنَی .وَقَالَ یَحْیَی بْنُ آدَمَ : لَیْسَ مِنْ قِبَلِ ھٰذِہِ الْعِلَّۃِ عِنْدِی جَائَ النَّہْیُ‘ وَلٰـکِنْ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْاِبِلَ یُخَافُ وُثُوْبُہَا فَیَعْطَبُ مَنْ یُلَاقِیْہَا حِیْنَئِذٍ‘ أَلَا تَرَاہُ قَالَ : فَإِنَّہَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ .وَفِیْ حَدِیْثِ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : (إِنَّ لِھٰذِہِ الْاِبِلِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ) .وَھٰذَا فَغَیْرُ مَخُوفٍ مِنَ الْغَنَمِ‘ فَأَمَرَ بِاجْتِنَابِ الصَّلَاۃِ فِیْ مَعَاطِنِ الْاِبِلِ‘ خَوْفَ ذٰلِکَ مِنْ فِعْلِہَا‘ لَا لِأَنَّ لَہَا نَجَاسَۃً لَیْسَتْ لِلْغَنَمِ مِثْلُہَا‘ وَأُبِیْحَتِ الصَّلَاۃُ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ‘ لِأَنَّہٗ لَا یُخَافُ مِنْہَا مَا یُخَافُ مِنَ الْاِبِلِ .
٢٢٢٧: حسن نے حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو مگر اونٹوں کے باڑے میں نماز مت پڑھو۔
تخریج : روایت نمبر ٢٢٢٢ کی تخریج ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : ان روایات میں اونٹوں کے باڑے میں نماز سے ممانعت واضح طور پر ثابت ہے اس سے معلوم ہوا کہ ان کے باڑے میں نماز مکروہ تحریمی ہے۔
مؤقف ثانی : بکریوں کے باڑے کی طرح اونٹوں کے باڑے میں نماز سے ممانعت واضح طور پر ثابت ہے اس سے معلوم ہوا کہ ان کے باڑے میں نماز مکروہ تحریمی ہے۔
مؤقف ثانی : بکریوں کے باڑے کی طرح اونٹوں کے باڑے میں نماز سے بھی نماز جائز ہے جن روایات میں ممانعت وارد ہے اس کے اسباب ہیں اگر وہ اسباب پائے جائیں تو نماز ممنوع ورنہ درست ہوگی۔
تلاش اسباب :
نمبر 1: بعض لوگوں نے کہا اونٹوں والے غیر محتاط ہوتے ہیں اور باڑے کے قرب و جوار میں پیشاب پاخانہ سے باز نہیں رہتے اس نجاست کی وجہ سے باڑے پلید ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے باڑے کے اندر نماز کی ممانعت کی گئی گویا گندگی سے عدم احتیاط ممانعت کا سبب ہے۔
نمبر 2: اور اس کے برخلاف بکری کمزور ہے بکریوں والے ان کے مقامات کو صاف ستھرا رکتے ہیں اور ان باڑوں میں پیشاب پاخانہ خود بھی نہیں کرتے اس وجہ سے ان میں نماز کو مباح قرار دیا گیا یہ شریک بن عبداللہ کی رائے ہے وہ اس روایت کی تاویل یہی کرتے تھے۔
دوسرا سبب : یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ اس علت کی وجہ سے ممانعت نہیں جو شریک نے بیان کی بلکہ وجہ یہ ہے کہ اونٹوں سے ہلاکت کا خدشہ ہے یہ کینہ پرور جانور ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانوروں سے اس کو جن قرار دیا اور من جن خلقت کہا گویا شیاطین کی طرح فطرت میں شرارت ہے اور ان کو رافع بن خدیج کی روایت کے مطابق وحشی جانور قرار دیا گیا فرمایا : ان لہذہ الابل او ابدکا وابد الوحش ۔ گویا ان کے وحشی پن کا ہر وقت خطرہ ہے اور بکریوں سے چنداں یہ خطرہ نہیں ہے اس وجہ سے اونٹوں کے باڑے میں نماز کی ممانعت کی گئی ہے اس وجہ سے نہیں کہ وہاں نجاست ہے بس بکریوں سے خطرہ جان نہیں تو نماز کی اجازت دی اور اونٹوں سے خطرہ جان کی وجہ سے ممانعت ہے۔
تخریج : ہذاہ الابل اوابد۔ بخاری باب ١٩١‘ مسلم فی الاصاحی نمبر ٢٠‘ ابو داؤد باب ١٤‘ ترمذی فی العید ١٩‘ نسائی فی العید باب ١٧‘ ابن ماجہ فی الذبائح باب ٩‘ دارمی فی الاضاجی باب ١٥‘ مسند احمد ٣؍٤٦٣۔