۲۲۸۰: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ‘ قَالَ : أَنَا حُمَیْدُ الطَّوِیْلُ‘ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : (اِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ یَعْنِیْ : إِلَی الصَّلَاۃِ فَلْیَمْشِ عَلَی ہَیْئَتِہٖ‘ فَلْیُصَلِّ مَا أَدْرَکَ‘ وَلْیَقْضِ مَا سُبِقَ بِہٖ مِنْہَا) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ - وَالنَّظْرُ عِنْدَنَا - یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ مَنْ صَلّٰی خَلْفَ الصَّفِّ‘ فَصَلَاتُہٗ جَائِزَۃٌ .وَذٰلِکَ أَنَّہُمْ لَا یَخْتَلِفُوْنَ فِیْ رَجُلٍ کَانَ یُصَلِّیْ وَرَائَ الْاِمَامِ فِیْ صَفٍّ‘ فَخَلَا مَوْضِعُ رَجُلٍ أَمَامَہٗ أَنَّہٗ یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَمْشِیَ إِلَیْہِ حَتّٰی یَقُوْمَ فِیْہٖ‘ وَکَذٰلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
٢٢٨٠: حمیدالطویل نے حضرت انس (رض) سے نقل کیا انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے آئے تو وہ اپنی حالت پر چل کر آئے پس اس میں سے جو پائے اسے پڑھ لینا چاہیے (امام کے ساتھ) اور جو رہ جائے تو وہ پوری کرے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں نظر و فکر یہی چاہتے ہیں کہ جو کوئی شخص صف میں اکیلا نماز پڑھے اس کی نماز جائز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ائمہ کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جب کوئی شخص صف سے پیچھے نماز میں مصروف ہو پھر اس کے آگے ایک آدمی کی جگہ خالی ہوجائے تو اسے چل کر وہاں کھڑا ہونا چاہیے۔ ابن عمر (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔ ذیل میں دیکھیں۔
: مسند احمد ٣؍١٠٦۔
حاصل روایات : کہ صف کے پیچھے آنے والے کو سکون وقار سے آ کر نماز میں شامل ہونا چاہیے اگر وہ جلد بازی سے نماز میں وضو کر کے دور سے شامل ہوگیا تو تب بھی اس کی نماز تو درست ہوجائے گی اس کا شوق قابل تحسین ہے مگر سکون و وقار کو توڑنا مناسب اور اچھی عادت نہیں اس کو ترک کردینا چاہیے۔ یہ تقاضا اثر ہے اور تقاضائے نظریہ ہے۔
نظر طحاوی (رح) :
تقاضائے نظر ہمارے ہاں یہی ہے کہ جو شخص صف میں پیچھے اکیلا امام کی اقتداء میں نماز پڑھے اس کی نماز درست ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سب متفق ہیں کہ جو شخص امام کے پیچھے صف میں نماز پڑھ رہا ہو۔ ایک آدمی نے اس کے سامنے والی جگہ خالی کردی (وضو وغیرہ ٹوٹ گیا) اسے مناسب ہے کہ وہ صف میں چل کر اس جگہ کھڑا ہوجائے اور یہ بات حضرت ابن عمر (رض) سے ثابت ہے جیسا کہ اس روایت میں ہے۔