hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2281

.

الطحاوي

2281
Al Tahawi
۲۲۸۱: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ أَنْبَأَنِیْ‘ قَالَ : سَمِعْتُ خَیْثَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ یَقُوْلُ : صَلَّیْتُ إِلٰی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَرَأَی فِی الصَّفِّ خَلَلًا‘ فَجَعَلَ یَغْمِزُنِیْ أَنْ أَتَقَدَّمَ إِلَیْہٖ‘ وَجَعَلْتُ إِنَّمَا یَمْنَعُنِیْ أَنْ أَتَقَدَّمَ الضِّیْقُ بِمَکَانِیْ‘ اِذَا جَلَسَ أَنْ أَبْعُدَ مِنْہُ فَلَمَّا أَنْ رَأَیْ ذٰلِکَ تَقَدَّمَ ہُوَ .وَالَّذِیْ یَتَقَدَّمُ مِنْ صَفٍّ إِلٰی صَفٍّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا ہُوَ فِیْمَا بَیْنَ الصَّفَّیْنِ فِیْ غَیْرِ صَفٍّ‘ فَلَمْ یَضُرَّہُ ذٰلِکَ‘ وَلَمْ یُخْرِجْہُ مِنَ الصَّلَاۃِ .فَلَوْ کَانَتِ الصَّلَاۃُ لَا تَجُوْزُ إِلَّا بِقِیَامٍ فِیْ صَفٍّ‘ لَفَسَدَتْ عَلٰی ھٰذَا صَلَاتُہُ لَمَّا صَارَ فِیْ غَیْرِ صَفٍّ‘ وَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ أَقَلَّ الْقَلِیْلِ .کَمَا أَنَّ مَنْ وَقَفَ عَلٰی مَکَان نَجِسٍ وَہُوَ یُصَلِّیْ أَقَلَّ الْقَلِیْلِ‘ أَفْسَدَ ذٰلِکَ عَلَیْہِ صَلَاتَہٗ۔ فَلَمَّا أَجْمَعُوْا أَنَّہُمْ یَأْمُرُوْنَ ھٰذَا الرَّجُلَ بِالتَّقَدُّمِ إِلٰی مَا خَلَا أَمَامَہٗ مِنَ الصَّفِّ‘ وَلَا یُفْسِدُ عَلَیْہِ صَلَاتَہٗ، کَوْنُہُ فِیْمَا بَیْنَ الصَّفَّیْنِ فِیْ غَیْرِ صَفٍّ‘ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَنْ صَلَّیْ دُوْنَ الصَّفِّ‘ أَنَّ صَلَاتَہُ مُجْزِئَۃٌ عَنْہُ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمْ رَکَعُوْا دُوْنَ الصَّفِّ‘ ثُمَّ مَشَوْا إِلَی الصَّفِّ‘ وَاعْتَدُّوْا بِتِلْکَ الرَّکْعَۃِ الَّتِیْ رَکَعُوْہَا دُوْنَ الصَّفِّ .فَمِنْ ذٰلِکَ
٢٢٨١: خیثمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی انھوں نے صف میں خلل پایا تو مجھے کنکھیوں سے اشارہ کرنے لگے کہ میں اس جگہ کی طرف آگے بڑھ جاؤں اور مجھے جگہ کی تنگی آگے بڑھنے سے مانع تھی جب وہ بیٹھ جاتے تو میں اور دور ہوجاتا جب انھوں نے یہ حالت دیکھی تو خود آگے بڑھ گئے۔ جو شخص ایک صف سے دوسری صف کی طرف بڑھتا ہے جیسا ہم ذکر کر آئے تو وہ دو صفوں کے درمیان ہوتا ہے اگلی یا پچھلی کسی صف میں نہیں ہوتا ‘ تو یہ چیز اس کو نہ نقصان دیتی ہے اور نہ نماز سے نکالتی ہے۔ اگر صف میں برابر کھڑے ہونے سے ہی نماز جائز ہوتی تو اس صورت میں تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی اس لیے کہ وہ صف سے آگے پیچھے جگہ میں چلا گیا۔ اگرچہ یہ عمل قلیل ہے جیسا کہ کوئی ناپاک جگہ پر نماز ادا کرے خواہ وقت کس قدر قلیل ہو تب بھی اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ تو جب اس بات پر تمام کا اجماع ہے کہ وہ ائمہ کرام اس کو آگے بڑھنے کا حکم دیتے ہیں جو اس سے اگلے شخص نے خالی کی ہے اور اس کی نماز ایسا کرنے سے نہیں ٹوٹتی کہ وہ نہ پہلی صف میں ہے اور پچھلی میں ‘ بلکہ ان کے درمیان ہے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جس نے صف کے علاوہ نماز پڑھی اس کی نماز درست ہے اور بہت سے صحابہ کرام (رض) سے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کرنا مروی ہے اور پھر وہ صف کی طرف چل کر گئے پھر انھوں نے جس رکعت کا رکوع صف میں شمولیت سے پہلے کیا تھا اس کو رکعت گردانا۔ چند روایات ذیل میں ہیں۔
: مسند ابن ابی شیبہ ١؍٣٢٣۔
جب ایک صف سے دوسری صف کی طرف بڑھنا اس روایت کے مطابق نقصان دہ نہیں اور نماز سے خارج نہیں کرتا پس اگر نماز صرف صف میں ایک جگہ کھڑے ہونے کے بغیر درست نہیں تو پھر ایک صف سے دوسری صف کی طرف بڑھنے والے کی نماز فاسد ہونی چاہیے کیونکہ یہ غیر صف میں ہوگیا اگرچہ قلیل ہی سہی جیسا کہ نجس جگہ پر اقل قلیل وقت کھڑے ہو کر نماز شروع کرنے والے کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
پس جب یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ سب بالاتفاق اس نمازی کو آگے بڑھنے کا حکم دیتے ہیں جو اس کے آگے والے نے خالی کی ہے اور اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی حالانکہ وہ دو صفوں کے درمیان بالکل غیر صف میں ہے اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس نے غیر صف میں نماز پڑھی اس کی نماز درست ہے اور اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک جماعت سے یہ بات ثابت ہے کہ انھوں نے صف کے علاوہ رکوع کیا پھر وہ چل کر صف میں آگئے صف کے علاوہ پڑھی گئی یہ رکعت ان کی نماز میں شمار ہوئی۔
روایت ملاحظہ کریں۔