hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2313

.

الطحاوي

2313
Al Tahawi
۲۳۱۳: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ‘ قَالَ : ثَنَا زَائِدَۃُ‘ قَالَ : ثَنَا مُوْسَی بْنُ أَبِیْ عَائِشَۃَ‘ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ‘ قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : أَلَا تُحَدِّثِیْنِیْ عَنْ مَرْضِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ : بَلَی‘ (کَانَ النَّاسُ عُکُوْفًا فِی الْمَسْجِدِ‘ یَنْتَظِرُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِصَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ‘ فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی أَبِیْ بَکْرٍ أَنْ یُّصَلِّیَ بِالنَّاسِ‘ فَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمْ تِلْکَ الْأَیَّامِ .ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِہٖ خِفَّۃً‘ فَخَرَجَ یُہَادَیْ بَیْنَ رَجُلَیْنِ لِصَلَاۃِ الظُّہْرِ‘ وَأَبُوْ بَکْرٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآہٗ أَبُوْ بَکْرٍ‘ ذَہَبَ لِیَتَأَخَّرَ‘ فَأَوْمٰی إِلَیْہِ أَلَّا یَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَہُمَا أَجْلِسَانِیْ إِلٰی جَنْبِہٖ فَأَجْلَسَاہُ إِلَی جَنْبِ أَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ۔ فَجَعَلَ أَبُوْ بَکْرٍ یُصَلِّیْ وَہُوَ قَائِمٌ‘ بِصَلَاۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ بِصَلَاۃِ أَبِیْ بَکْرٍ‘ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ .قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَعَرَضْتُ حَدِیْثَہَا عَلَیْہٖ‘ فَمَا أَنْکَرَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا) .
٢٣١٣: عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں گیا میں نے گزارش کی کہ آپ مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کے سلسلے میں بتلائیں انھوں نے حامی بھر لی۔ لوگ مسجد میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر سے باہر تشریف لانے کے منتظر تھے تاکہ آپ عشاء کی نماز پڑھائیں پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چنانچہ وہی ان (ایام مرض) میں دنوں نماز پڑھاتے رہے پھر (ایک دن) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض میں کچھ افاقہ محسوس فرمایا تو آپ دو آدمیوں کے سہارے نماز ظہر کے لیے تشریف لائے اس وقت ابوبکر (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابوبکر (رض) نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے پس آپ نے ان کی طرف پیچھے نہ ہٹنے کا اشارہ فرمایا اور ان دونوں کو فرمایا مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ان دونوں نے آپ کو ابوبکر (رض) کے پہلو میں بٹھا دیا پس ابوبکر (رض) کھڑے ہو کر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھنے لگے اور لوگ ابوبکر (رض) کی نماز کے مطابق نماز پڑھنے لگے جبکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ کر نماز ادا فرما رہے تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس گیا اور میں نے ان کی تمام روایت ان کو سنائی تو انھوں نے اس میں سے کسی چیز کا انکار نہ کیا۔
: مسلم فی الصلاۃ نمبر ٩٠‘ ترمذی فی الصلاۃ بابنمبر ١٥١‘ حدیث نمبر ٣٦٢٦۔
نوٹ : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت نمبر ٢٣١٢ کے موجودہ نسخہ کی عبارت بھی درست ہے۔ مترجم