hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2314

.

الطحاوي

2314
Al Tahawi
۲۳۱۴: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنِ الْأَسْوَدِ‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : (لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَائَ ہُ بِلَالٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُؤْذِّنُہُ بِالصَّلَاۃِ فَقَالَ : ائْتُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ .قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ لَوْ أَمَرْت عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُصَلِّیْ بِہِمْ‘ فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیْفٌ وَمَتَی یَقُوْمُ مَقَامَک لَمْ یُسْمَعَ النَّاسُ قَالَ : مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَأَمَرُوْا أَبَا بَکْرٍ‘ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ. فَلَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِفَّۃً‘ فَقَامَ یُہَادَیْ بَیْنَ رَجُلَیْنِ‘ وَرِجْلَاہُ تَخُطَّانِ فِی الْأَرْضِ‘ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُوْ بَکْرٍ حِسَّہُ ذَہَبَ لِیَتَأَخَّرَ‘ فَأَوْمٰی إِلَیْہِ أَنْ صَلِّ کَمَا أَنْتَ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی جَلَسَ عَنْ یَسَارِ أَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ‘ وَأَبُوْ بَکْرٍ یَقْتَدِیْ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ قَائِمٌ‘ وَالنَّاسُ یَقْتَدُوْنَ بِصَلَاۃِ أَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) .فَقَالَ قَائِلُوْنَ : لَا حُجَّۃَ لَکُمْ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِیْ تِلْکَ الصَّلَاۃِ مَأْمُوْمًا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
٢٣١٤: اسود نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت مرض کی وجہ سے بوجھل ہوگئی تو بلال (رض) نے آ کر آپ کو نماز کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا ابوبکر (رض) کو لاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ابوبکر (رض) تو بہت رقیق القلب ہیں جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگ ان کی قراءت نہ سن سکیں گے آپ نے بار دیگر فرمایا جاؤ ابوبکر (رض) کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں انھوں نے ابوبکر (رض) کو یہ پیغام دیا تو انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب وہ نماز شروع کرچکے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ تخفیف محسوس کی تو دو آدمیوں کا سہارا لے کر آپ اٹھے جبکہ آپ کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے جب حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی آمد کو محسوس کیا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ جیسا پڑھا رہے ہو پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ابوبکر (رض) کے بائیں جانب بیٹھ گئے پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر (رض) آپ کی اقتداء کر رہے تھے اس حال میں کہ ابوبکر (رض) کھڑے تھے اور لوگ ابوبکر (رض) کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس روایت میں تمہارے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس روایت کے مطابق اس نماز میں مقتدی تھے اور انھوں نے ان روایتوں کو دلیل بنایا ہے۔
: مسلم فی الصلاۃ نمبر ٩٥‘ ابن ماجہ فی الصلاۃ نمبر ١٢٣٤۔
لغآت : ثقل۔ طبیعت کا بوجھل ہونا۔ اسیف۔ جلد رونے اور غم کرنے والا۔ نرم دل۔ تخطان۔ زمین پر خط ڈالنا۔ گھسٹنا۔ حسمہ۔ محسوس کیا۔
ایک اعتراض :
آپ نے جو روایات ذکر کی ہیں ان میں بظاہر امامت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ معلوم ہوتا ہے مگر مندرجہ ذیل روایات سے امامت ابی بکر (رض) ثابت ہوتی ہے پس مدعیٰ ثابت نہ ہوسکا روایات یہ ہیں۔