۲۳۲۱: مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَائِ ڑ الْغُدَانِیُّ‘ قَالَ : أَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ‘ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہٖ‘ عَنْ زُبَیْدِ بْنِ الصَّلْتِ‘ قَالَ : قَالَ عُمَرُ (أَرَانِیْ قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ، وَصَلَّیْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ) ثُمَّ قَالَ : (أَغْتَسِلُ مَا رَأَیْتُ وَأَنْضَحُ مَا لَمْ أَرَ) ثُمَّ أَقَامَ فَصَلّٰی مُتَمَکِّنًا وَقَدِ ارْتَفَعَ الضُّحٰی .
٢٣٢١: عروہ نے زبید بن ا لصلت سے روایت کی ہے کہ عمر (رض) کہنے لگے میرا خیال ہے کہ مجھے احتلام ہوگیا اور مجھے معلوم نہیں ہوسکا اور میں نے بلاغسل نماز پڑھ لی ہے پھر فرمایا میں اس کو دھو لیتا ہوں جو گندگی نظر آتی ہے اور جو نظر نہیں آتی (اس پر وہم ہے تو وہاں ازالہ وہم کے لئے) چھینٹے دے لیتا ہوں پھر اقامت کہہ کر اطمینان سے نماز ادا کی جبکہ چاشت کا وقت ہوچکا تھا۔
: ابن ابی شیبہ مختصراً ١؍٣٤٥۔