۲۳۲۲: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ زُبَیْدِ بْنِ الصَّلْتِ أَنَّہٗ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَنَظَرْنَا‘ فَإِذَا ہُوَ قَدِ احْتَلَمَ‘ فَصَلّٰی وَلَمْ یَغْتَسِلْ فَقَالَ : (وَاللّٰہِ مَا أُرَانِیْ إِلَّا وَقَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ، وَصَلَّیْتُ مَا اغْتَسَلْتُ) .قَالَ : فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأٰی فِیْ ثَوْبِہٖ، وَنَضَحَ مَا لَمْ یَرَ‘ وَأَذَّنَ وَأَقَامَ الصَّلَاۃَ‘ ثُمَّ صَلّٰی‘ بَعْدَمَا ارْتَفَعَ الضُّحٰی‘ مُتَمَکِّنًا .فَدَلَّ ھٰذَا عَلٰی أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ لَمْ یَکُنْ تَیَقَّنَ بِأَنَّ الْجَنَابَۃَ کَانَتْ مِنْہُ قَبْلَ الصَّلَاۃِ .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ کَانَ یَرٰی أَنَّ صَلَاۃَ الْمَأْمُوْمِ تَفْسُدُ بِفَسَادِ صَلَاۃِ الْاِمَامِ
٢٣٢٢: عروہ نے زبید بن ا لصلت سے نقل کیا کہ میں عمر (رض) کے ساتھ نکلا پس ہم نے دیکھا کہ ان کو تو احتلام ہوا اور انھوں نے نماز پڑھ لی اور غسل نہیں کیا اس پر عمر (رض) کہنے لگے اللہ کی قسم ! مجھے تو احتلام ہوگیا اور مجھے خبر بھی نہیں ہوئی اور میں نے بلاغسل نماز پڑھ لی ہے پھر آپ نے غسل کیا اور کپڑے پر جو نشان دیکھا اس کو دھو ڈالا اور جہاں نظر نہ آیا وہاں صرف پانی انڈیل دیا پھر اذان اقامت کہی گئی پھر انھوں نے چاشت کے وقت اطمینان سے نماز ادا کی۔ پس اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ حضرت عمر (رض) کو یقین نہ تھا کہ جنابت والا معاملہ نماز کے بعد پیش آیا ‘ یا پہلے پیش آیا۔ وہی اس بات کی دلیل کہ عمر (رض) ان کی رائے بھی یہی تھی کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز کے فساد سے فاسد ہوجاتی ہے۔ اثر ذیل پڑھ لو۔
: موطا مالک ١٧۔
حاصل آثار :
اس سے معلوم ہوا کہ ان کو یقین نہیں تھا کہ یہ جنابت نماز سے پہلے کی ہے۔ حضرت عمر (رض) بھی امام کی نماز کے فساد پر مقتدی کی نماز کو فاسد خیال کرتے تھے۔ اس کی دلیل میں اگلی روایت ملاحظہ ہو۔