hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2323

.

الطحاوي

2323
Al Tahawi
۲۳۲۳: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیٰی‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نَسِیَ الْقِرَائَ ۃَ فِیْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ‘ فَأَعَادَ بِہِمُ الصَّلَاۃَ .فَلَمَّا أَعَادَ بِہِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ الصَّلَاۃَ لِتَرْکِہِ الْقِرَائَ ۃَ - وَفِیْ فَسَادِ الصَّلَاۃِ بِتَرْکِ الْقِرَائَ ۃِ اخْتِلَافٌ - کَانَ اِذَا صَلّٰی بِہِمْ جُنُبًا أَحْرٰی أَنْ یُّعِیْدَ بِہِمُ الصَّلَاۃَ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ خِلَافُ ذٰلِکَ‘ فَذَکَرَ۔
٢٣٢٣: ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ عمر (رض) مغرب کی نماز میں قراءت بھول گئے پس آپ نے ان کو دوبارہ نماز پڑھائی۔ پس جب قراءت کے چھوٹنے کی وجہ سے حضرت عمر (رض) نے نماز کا اعادہ کیا (اگرچہ ترک قراءت سے نماز کے فاسد ہونے میں اختلاف ہے) تو جنابت کی حالت میں نماز پڑھانے کے بعد اس کا لوٹانا زیادہ قرین قیاس ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ حضرت عمر (رض) کا قول اس کے برعکس بھی مروی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
حاصل اثر :
جب ترک قراءت جس میں اختلاف ہے اس پر بھی نماز کو لوٹاتے ہیں تو جنابت پر نماز کا دھرانا بدرجہ اولیٰ ہے۔
ایک اشکال :
عمر (رض) سے اس کے خلاف روایت موجود ہے۔ آگے ملاحظہ ہو۔