۲۳۴۵: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ‘ قَالَ : ثَنَا حُمَامٌ‘ عَنْ قَتَادَۃَ‘ عَنْ عُزْرَۃَ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ کَانَ لَا یَتَجَاوَزُ ذٰلِکَ إِلٰی غَیْرِہٖ‘ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَحْکِ عَنْہُ أَنَّہٗ قَالَ : لَا یُقْرَأُ فِیْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مَعَ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ غَیْرُ ہَاتَیْنِ السُّوْرَتَیْنِ حَتّٰی لَا یَجُوْزَ خِلَافُ ذٰلِکَ .وَلٰـکِنْ إِنَّمَا أَخْبَرَ مَنْ رَوَاہُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یَقْرَأُ بِہِمَا فِیْہِمَا‘ کَمَا أَخْبَرَ النُّعْمَانُ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْعِیْدَیْنِ بِمَا ذَکَرْنَا .ثُمَّ قَدْ جَائَ عَنْ غَیْرِہِمَا أَنَّہٗ قَرَأَ بِخِلَافِ ذٰلِکَ لِأَنَّہٗ قَرَأَ بِھٰذَا مَرَّۃً‘ وَبِھٰذَا مَرَّۃً .فَکَذٰلِکَ مَا حُکِیَ عَنْہُ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ فِیْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ‘ یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ قَرَأَ بِہٖ مَرَّۃً أَوْ قَرَأَ بِہٖ مِرَارًا ثُمَّ قَرَأَ بِغَیْرِہِ فَیَحْکِیْ کُلُّ مَنْ حَضَرَہُ مَا سَمِعَ مِنْ قِرَائَ تِہٖ، وَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی حُکْمِ التَّوْقِیْتِ .وَجَمَعَ مَا ذَہَبْنَا إِلَیْہِ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٢٣٤٥: عزرہ نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان روایات میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ آپ ان کے علاوہ نہیں پڑھتے تھے کہ یہ کہا جائے کہ ان دو سے تجاوز کرنا جائز نہیں بلکہ ان روایات کے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرنے والوں نے صرف یہ بات بتلائی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دو سورتیں ان دو موقعوں پر پڑھا کرتے تھے جیسا کہ حضرت نعمان اور ابن عباس (رض) کی روایات میں صاف مذکور ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین میں یہ سورتیں پڑھتے تھے جیسا کہ ہم پہلے بتا آئے ‘ پھر دوسری بات یہ ہے کہ ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام (رض) نے نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے علاوہ سورتیں بھی کبھی پڑھیں اور کبھی انہی کو پڑھا اسی طرح جمعہ کے دن کی فجر میں کی جانے والی قراءت کا معاملہ بھی یہی ہے اس میں احتمال یہ ہے کہ آپ نے ان سورتوں کو ایک مرتبہ پڑھا یا کئی مرتبہ پڑھا پھر ان کے علاوہ اور بھی قرآن مجید کو پڑھا ‘ چنانچہ جو جس موقع پر موجود تھا اس نے جو قراءت سنی اس کو بیان کردیا اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ وہ سورتیں اس موقع کے لیے متعین ہوگئیں ‘ یہ جتنی باتیں جو ہم نے اس باب میں بیان کی ہیں یہ امام ابوحنیفہ ابویوسف اور محمد بن حسن (رح) کا قول ہے۔
تخریج : ١؍٢٨٨‘ کتاب الجمعہ۔
حاصل کلام :
اس روایت میں یہ بالکل ذکر نہیں کہ آپ نماز فجر میں جمعہ کے دن فاتحہ الکتاب کے ساتھ ان دو سورتوں کے علاوہ نہیں پڑھتے تھے کہ جس کی خلاف ورزی درست نہ ہو بلکہ اتنا مذکور ہے کہ یہ دو سورتیں پڑھا کرتے تھے جیسا کہ نعمان ‘ ابن عباس ‘ ابوہریرہ (رض) نے بتلایا کہ آپ عیدین میں یہ پڑھتے تھے پھر ان کے علاوہ بھی روایات میں وارد ہوتیں کہ کبھی وہ اور کبھی سورتیں دوسری پڑھتے تھے یہی حال جمعہ کی قراءت کا ہے اس میں جس نے جس نماز میں شرکت کی وہ ذکر کردی یہ تمام اقوال جن کی طرف ہم اس باب میں گئے ہیں یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
نوٹ : : یہ باب بھی نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے اس میں روایات کو پیش کرنا مناسب خیال کیا گیا اور پھر ان روایات میں اپنے مزاج کے مطابق تطبیق پیدا فرمائی اور مسئلہ کو واضح کیا کہ راجح قول قرآن مجید کی کسی صورت کی عدم تخصیص ہے۔