۲۳۴۶: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُعَافَی بْنُ عِمْرَانَ‘ عَنْ مُغِیْرَۃَ بْنِ زِیَادٍ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : (قَصَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی السَّفَرِ‘ وَأَتَمَّ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْمُسَافِرَ بِالْخِیَارِ‘ إِنْ شَائَ أَتَمَّ صَلَاتَہٗ، وَإِنْ شَائَ قَصَرَہَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .
٢٣٤٦: عطاء بن ابی رباح نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر میں قصر بھی کی اور مکمل بھی پڑھی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کچھ علماء اس طرف گئے ہیں کہ مسافر کو اس بات کا اختیار ہے کہ اگر چاہے تو وہ اپنی نماز کو مکمل کرلے اور چاہے تو اس میں قصر کرلے (قصر لازم نہیں) ۔ انھوں نے اس روایت کو اپنا مستدل قرار دیا ہے۔
تخریج : دارقطنی فی السنن ٢؍١٨٩‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ٣؍١٤١۔
خلاصہ الزام : مدت اقامت میں احناف پندرہ یوم اور مالکیہ و شوافع چار یوم اور حنابلہ اکیس نمازوں کے قیام کے ارادہ کو معتبر مانتے ہیں۔ نماز کو قصر کرنا آیا عزیمت ہے۔ یا رخصت۔
نمبر 1: امام مالک ‘ شافعی ‘ و احمد (رح) اس کو رخصت و سنت کے درجہ میں مانتے ہیں۔
نمبر 2: احناف عزیمت و فرض کے درجہ میں قرار دیتے ہیں۔
مؤقف فریق اوّل اور دلائل : نماز حالت سفر میں قصر کرنا سنت ہے اور اس کا درجہ رخصت کا ہے خواہ اس کو استعمال کرے یا نہ کرے۔ دلائل یہ ہیں۔
آگے روایات ملاحظہ ہوں۔