hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2347

.

الطحاوي

2347
Al Tahawi
۲۳۴۷: وَبِمَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ‘ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ عَمَّارٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بَابَاہُ‘ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُنْیَۃَ‘ قَالَ : (قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِنَّمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلَاۃِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ یَفْتِنَکَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ .فَقَالَ : إِنِّیْ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتُ مِنْہُ فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِہَا عَلَیْکُمْ‘ فَاقْبَلُوْا صَدَقَتَہٗ). وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یَزِیْدَ عَلَی اثْنَتَیْنِ‘ وَإِنْ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ‘ فَإِنْ کَانَ قَعَدَ فِی اثْنَتَیْنِ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَالْعِشَائِ، قَدْرَ التَّشَہُّدِ‘ فَصَلَاتُہُ تَامَّۃٌ‘ وَإِنْ کَانَ لَمْ یَقْعُدْ فِیْہَا قَدْرَ التَّشَہُّدِ‘ فَصَلَاتُہُ بَاطِلَۃٌ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْمَا احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ مِنَ الْحَدِیْثَیْنِ اللَّذَیْنِ ذَکَرْنَاہُمَا فِیْ أَوَّلِ ھٰذَا الْبَابِ
٢٣٤٧: یعلی بن منیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلاۃ (النساء : ١٠١) اب تو لوگ امن میں ہوگئے (کیا اب بھی قصر ہے) تو انھوں نے کہا مجھے اسی پر تعجب ہوا ہے جس پر تمہیں تعجب ہے پس میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلے میں سوال کیا تو فرمایا یہ صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے پس تم اس کے صدقہ کو قبول کرو۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مسافر کو دو سے زائد جائز نہیں اگر بالفرض اس نے نماز کو مکمل چار رکعت ادا کرلیا ‘ پس اگر وہ قعدہ اوّل ظہر ‘ عصر ‘ عشاء کی دو رکعتوں میں تشہد کی مقدار بیٹھا تو تب تو اس کی نماز پوری ہوجائے گی اور تشہد کی مقدار اس نے قعدہ نہیں کیا تو اس کی نماز باطل ہے۔ قول اوّل کے قائلین کے خلاف ان کی دلیل وہ دو روایات ہیں جو اس باب کے شروع میں ہم نقل کر آئے۔
تخریج : مسلم فی المسافرین نمبر ٤‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢٦٣‘ نمبر ١١٩٩‘ ترمذی فی تفسیر سورة ٤‘ باب ٢٠‘ نسائی فی الخوف باب ١‘ ابن ماجہ فی الاقامۃ باب ٧٣‘ نمبر ١٠٦٥‘ دارمی فی الصلاۃ باب ١٧٩‘ مسند احمد ١؍٢٥۔
حاصل روایات : ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صدقہ ہے اس کو قبول کرنا نہ کرنا اپنی مرضی پر موقوف ہے کرے تو سنت ادا کرنے کا ثواب پالے گا ورنہ اختیار نہ کرنے سے گناہ گار نہ ہوگا۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل : قصر کرنا سفر میں لازم ہے اگر چار رکعت میں دو پر قعدہ کیا نماز درست ہوجائے گی اور اگر قعدہ نہیں کیا تو نماز باطل ہوگی۔ دلائل آگے ملاحظہ ہوں۔