hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2426

.

الطحاوي

2426
Al Tahawi
۲۴۲۶: وَحَدَّثَنَا أَبُوْ مَعْشَرٍ‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا‘ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِأَنْ یُصَلِّیَ الْمُسَافِرُ الْوِتْرَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ‘ کَمَا یُصَلِّیْ سَائِرَ التَّطَوُّعِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ الْمَرْوِیَّۃِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَبِفِعْلِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ بَعْدِہٖ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ لِأَحَدٍ أَنْ یُصَلِّیَ الْوِتْرَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ وَأَنَّہٗ یُصَلِّیْہِ عَلَی الْأَرْضِ کَمَا یَفْعَلُ فِی الْفَرَائِضِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
٢٤٢٦: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ بعض علماء نے کہا کہ مسافر کو سواری پر وتر ادا کرنے میں چنداں قباحت نہیں ‘ جیسا کہ دیگر نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول آثار اور فعل ابن عمر (رض) کو دلیل بنایا۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو سواری پر وتر جائز نہیں بلکہ وہ زمین پر ادا کرے گا جیسا فرائض میں کیا جاتا ہے اور ان کی دلیل درج ذیل آثار سے ہے۔ یہ اثر اس کے مخالف ہے جس سے اوّل قول والوں نے دلیل اخذ کی ہے اور جس کو ہم نے ابن عمر (رض) کی روایت سے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ابن عمر (رض) کی اپنی روایات بھی اپنے اس قول کے خلاف اور دوسرے قول کی موافقت میں آئی ہیں۔ جو درج ذیل ہیں۔
تخریج : مسلم فی المسافرین نمبر ٣١‘ ٣٢۔
حاصل روایات : ان روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جس طرح نوافل کو سواری پر ادا کرسکتے ہیں خواہ وہ کسی رخ پر جائے بالکل اسی طرح وتروں کی ادائیگی بھی سواری پر درست ہے فرائض کی طرح ان کو زمین پر اتر کر ادا کرنا ضروری نہیں۔
مؤقف فریق ثانی و دلائل : سواری پر وتر جائز نہیں ان کو فرائض کی طرح زمین پر ادا کرنا ضروری ہیں وتر واجب ہیں نفل نہیں ان کا حکم اسی وجہ سے نوافل سے مختلف ہے دلائل یہ روایات ہیں۔