۲۴۲۷: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ قَالَ : ثَنَا حَنْظَلَۃُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنْ (ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ وَیُوْتِرُ بِالْأَرْضِ‘ وَیَزْعُمُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَفْعَلُ کَذٰلِکَ) .فَھٰذَا خِلَافُ مَا احْتَجَّ بِہٖ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِقَوْلِہِمْ‘ فِیْمَا قَدْ رَوَیْنَاہُ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .ثُمَّ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَیْضًا‘ مِنْ غَیْرِ ھٰذَا الْوَجْہِ‘ مِنْ فِعْلِہٖ، مَا یُوَافِقُ ھٰذَا .
٢٤٢٧: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی کہ وہ اپنی سواری پر نفل نماز ادا کرتے اور وتر زمین پر اتر کر ادا کرتے اور ان کا خیال یہ تھا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کرتے تھے۔
تخریج : بخاری فی تقصیر الصلاۃ باب ٧۔
سابقہ روایات ابن عمر (رض) کا جواب۔
یہ روایت فریق اوّل کی نقل کردہ روایات کے خلاف ہے اور ابن عمر (رض) سے اس روایت کی تائید میں بہت سی روایات ان کے اپنے عمل کو اس کے مطابق ثابت کرتی ہیں اس سے معلوم ہوا کہ وہ عمل پہلے کا ہے جو کہ منسوخ ہوا قاعدہ معروفہ ہے کہ راوی کا عمل روایت کے خلاف ہو تو یہ نسخ کی دلیل ہے۔ روایات ملاحظہ ہوں۔