۲۴۸۳: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ‘ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرٌ‘ عَنْ مَنْصُوْرٍ‘ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ‘ عَنْ رَجُلٍ‘ أَوْ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (لَا تَتَقَدَّمُوْا ھٰذَا الشَّہْرَ حَتّٰی تَرَوا الْہِلَالَ أَوْ تُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ‘ وَلَا تُفْطِرُوْا‘ حَتّٰی تَرَوا الْہِلَالَ أَوْ تُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ) .فَلَمَّا لَمْ یَأْمُرْہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْخُرُوْجِ مِنَ الْاِفْطَارِ الَّذِیْ قَدْ دَخَلُوْا فِیْہِ إِلَّا بِیَقِیْنِ أَنَّہُمْ قَدْ خَرَجُوْا مِنْہُ‘ ثُمَّ لَمْ یُخْرِجْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ أَیْضًا مِنَ الصَّوْمِ الَّذِیْ قَدْ دَخَلُوْا فِیْہِ إِلَّا بِیَقِیْنِ أَنَّہُمْ قَدْ خَرَجُوْا مِنْہُ کَانَ کَذٰلِکَ أَیْضًا یَجِیْئُ فِی النَّظَرِ أَنْ یَّکُوْنَ کَذٰلِکَ‘ مَنْ دَخَلَ فِیْ صَلَاۃٍ وَہُوَ مُتَیَقِّنٌ أَنَّہَا عَلَیْہِ لَا یَخْرُجُ مِنْہَا إِلَّا بِیَقِیْنٍ مِنْہُ أَنَّہَا لَیْسَتْ عَلَیْہِ .
٢٤٨٣: ربعی بن حراش نے ایک آدمی سے یا ایک صحابی سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس مہینے سے پہلے روزہ مت رکھو جب تک کہ چاند نہ دیکھ لو یا گنتی کو پورا نہ کرلو اور افطار مت کرو جب تک کہ چاند نہ دیکھو یا گنتی نہ پوری کرلو۔ جبکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو افطار سے نکلنے کا حکم نہیں دیا حالانکہ وہ روزے میں یقین کے ساتھ داخل ہوئے تھے تو اب اس سے نکلنا بھی ایسے ہی یقین کے ساتھ تھا تو اسی طرح ہوا۔ پس اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص نماز میں یقین سے داخل ہوتا ہے کہ وہ نماز اس پر فرض ہے۔ تو اس نماز سے اسی وقت نکلے گا کہ جب اسے یقین ہوجائے کہ وہ اس پر لازم نہیں رہی۔
تخریج : ابو داؤد فی الصوم باب ٦‘ نمبر ٢٣٢٦۔
حاصل روایات : ان روایات سے ثابت ہوا کہ افطار سے رمضان کی طرف اور رمضان سے افطار کی طرف یقین کے ساتھ نکلیں گے خواہ وہ گنتی سے حاصل ہو یا وہ رویت سے حاصل ہو پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو افطار سے یقین کے بغیر نکلنے کی اجازت نہیں دی اسی طرح روزے سے بھی بلایقین نکلنے کی اجازت نہیں دی تو نظر کا تقاضا یہ ہے کہ نماز کے سلسلہ میں بھی یہ ہونا چاہیے کہ جو شخص نماز میں داخل ہوا ہے وہ یقین کرنے والا ہے پس اس سے وہ یقین کے ساتھ نکلے گا اور وہ اقل مقدار ہے جس پر یقین ہے نہ کہ تحری۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام طحاوی (رح) کا اپنا رجحان اسی قول کی طرف ہے اس وجہ سے اس کی قیاس بات کے ایک جز کو ثابت کرنے کے لیے اتنی کثیر روایات پیش کیں۔ نوٹ : اس باب میں بھی امام طحاوی (رح) نے نظر کو دو مرتبہ استعمال فرمایا ایک مرتبہ فریق ثالث کے حق میں اور دوسری مرتبہ نظر کو فریق ثانی کے حق میں استعمال کیا اور آخر میں لا کر اس پر ترجیح کی مہر ثبت کی ہے اگرچہ نظر پر بھی نظر ہوسکتی ہے۔