hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2484

.

الطحاوي

2484
Al Tahawi
۲۴۸۴: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ‘ قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتُوَائِیُّ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَعْرَجِ‘ عَنْ (عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَالِکٍ‘ ہُوَ ابْنُ بُحَیْنَۃَ أَنَّہٗ أَبْصَرَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ‘ وَنَسِیَ أَنْ یَقْعُدَ‘ فَمَضٰی فِیْ قِیَامِہٖ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْ صَلَاتِہٖ) .
٢٤٨٤: عبدالرحمن اعرج نے عبداللہ بن مالک ان کو ابن بحینہ کہتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ دو رکعتوں میں کھڑے ہوگئے اور قعدہ بھول گئے آپ قیام میں قائم رہے پھر نماز سے فراغت کے بعد دو سجدے کئے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ اس روایت میں فراغت کا مطلب معلوم نہیں ہوا عین ممکن ہے کہ فراغت سے سلام مراد ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سلام سے پہلے والا تشہد اس سے مراد ہو۔ اس میں غور کے لیے ان روایات کو دیکھیں۔
تخریج : بخاری فی السہو باب ١‘ مسلم فی المساجد ٧٨؍٨٥۔
خلاصۃ الزام :
سجدہ سہو کے قبل السلام یا بعدالسلام میں اختلاف ہے۔
نمبر 1: امام شافعی (رح) قبل السلام کہتے ہیں۔
نمبر 2: امام مالک نماز میں نقصان کی صورت میں قبل السلام اور زیادتی کی صورت میں بعدالسلام قرار دیتے ہیں۔
نمبر 3: احناف امام ابوحنیفہ و احمد (رح) بہر صورت بعدالسلام مانتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : سجدہ سہو سلام سے پہلے بہر صورت کیا جائے۔ دلائل ملاحظہ ہوں۔