۲۴۹۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ‘ قَالَ : أَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ أَیُّوْبَ‘ وَابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ قَالَا : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ‘ فَذَہَبَ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ قَوْمٌ فَقَالُوْا : ھٰکَذَا سُجُوْدُ السَّہْوِ‘ وَہُوَ قَبْلَ السَّلَامِ مِنَ الصَّلَاۃِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : مَا کَانَ مِنْ سُجُوْدِ سَہْوٍ لِلنُّقْصَانِ کَانَ فِی الصَّلَاۃِ فَہُوَ قَبْلَ التَّسْلِیْمِ کَمَا فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ‘ وَکَمَا فِیْ حَدِیْثِ مُعَاوِیَۃَ .وَمَا کَانَ مِنْ سُجُوْدِ سَہْوٍ‘ وَجَبَ لِزِیَادَۃٍ زِیْدَتْ فِی الصَّلَاۃِ‘ فَہُوَ بَعْدَ التَّسْلِیْمِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِحَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ خَبَرِ ذِی الْیَدَیْنِ‘ وَبِحَدِیْثِ الْخِرْبَاقِ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ فِیْ سُجُوْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ لِسَہْوِہٖ بَعْدَ التَّسْلِیْمِ .فَمِنْ ذٰلِکَ
٢٤٩١: یحییٰ بن ابی ایوب اور ابن لھیعہ دونوں نے محمد بن عجلان سے نقل کیا پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں بعض علماء نے ان آثار کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ سجدہ سہو سلام سے پہلے ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا نماز میں نقصان کا سجدہ سہو تو سلام سے پہلے ہوگا جیسا کہ ابن بحینہ کی روایات میں میں ہے اور اسی طرح معاویہ کی روایت میں پایا جاتا ہے اور جو سجدہ سہو کسی اضافہ کی وجہ سے لازم ہوا وہ سلام کے بعد ہوگا۔ انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت سے استدلال کیا جس میں ذوالیدین والا واقعہ مذکور ہے۔ نیز حضرت خرباق اور ابن عمر (رض) کی روایات سے استدلال کیا جو کہ اس دن آپ نے بھول جانے کی وجہ سے سلام پھیرنے کے بعد ادا فرمائے۔ روایت ذیل میں ہے۔
تخریج : نسائی ١؍١٨٦۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے سجدہ سہو قبل السلام ثابت ہوتا ہے پس سجدہ سہو قبل السلام ہی کرنا چاہیے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل : نماز میں نقصان کی صورت میں تو قبل السلام کیا جائے گا جیسا کہ ابن بحینہ (رض) کی روایت میں ہے اور اسی طرح معاویہ (رض) کی روایت میں ہے اور اضافے کی صورت میں سلام کے بعد ہوگا اور اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔