hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2492

.

الطحاوي

2492
Al Tahawi
۲۴۹۲: مَا حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ عَنِ اللَّیْثِ‘ عَنْ یَزِدْ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ‘ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (أَنَّہٗ سَجَدَ یَوْمَ ذِی الْیَدَیْنِ‘ یَعْنِیْ سَجْدَتَی السَّہْوِ‘ بَعْدَ السَّلَامِ) .وَسَنَذْکُرُ حَدِیْثَ ذِی الْیَدَیْنِ‘ وَکَیْفَ ہُوَ فِی " بَابِ الْکَلَامِ فِی الصَّلَاۃِ " إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : کُلُّ سَہْوٍ وَجَبَ فِی الصَّلَاۃِ‘ لِزِیَادَۃٍ أَوْ نُقْصَانٍ‘ فَہُوَ بَعْدَ السَّلَامِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ‘
٢٤٩٢: عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ ذوالیدین والے واقعہ کے دن سلام کے بعد دو سہو کے سجدے کئے باب الکلام فی الصلاۃ میں وہ روایت مذکور ہوگی۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ سجدہ سہو جو نماز میں نقص یا زیادتی کی بناء پر ہو وہ سلام کے بعد کیا جائے گا۔ دلیل ذیل کی روایات ہیں۔
حاصل روایات : یہاں طحاوی (رح) نے اشارہ کے طور پر صرف روایت ابوہریرہ (رض) ذکر کی ہے ورنہ قبل التسلیم کے لیے فصل اول کی روایات سے ان کا استدلال ہے اور بعدالتسلیم کے لیے روایت ذوالیدین ‘ حدیث خر باق ‘ روایت ابن عمر (رض) ان کی مستدلات میں شامل ہیں کہ کمی میں سلام سے پہلے اور اضافے میں سلام کے بعد ہوگا۔
فریق ثالث کا مؤقف اور دلائل : نماز میں کمی ہو یا اضافہ ہر دو صورت میں سہو کے دو سجدے سلام کے بعد کئے جائیں گے جیسا یہ روایات شاہد ہیں۔ دلائل۔