۲۵۰۹: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مَعْمَرٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ صُہَیْبٍ‘ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَامَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَسَبَّحَ بِہِ الْقَوْمُ‘ فَاسْتَتَمَّ أَرْبَعًا‘ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ‘ ثُمَّ قَالَ : اِذَا وَہِمْتُمْ‘ فَافْعَلُوْا ھٰکَذَا .وَھٰذَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ قَدْ حَضَرَ سُجُوْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخِرْبَاقِ لِلزِّیَادَۃِ الَّتِیْ کَانَ زَادَہَا فِیْ صَلَاتِہٖ بَعْدَ السَّلَامِ ثُمَّ قَالَ ہُوَ مِنْ بَعْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ السُّجُوْدَ لِلسَّہْوِ بَعْدَ السَّلَامِ " وَلَمْ یَفْصِلْ بَیْنَ مَا کَانَ مِنْ ذٰلِکَ لِزِیَادَۃٍ أَوْ نُقْصَانٍ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ السُّجُوْدَ الَّذِیْ حَضَرَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلسَّہْوِ الَّذِیْ کَانَ سَہَا حِیْنَئِذٍ فِیْ صَلَاتِہٖ، کَانَ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ عَلٰی أَنَّ کُلَّ سُجُوْدٍ لِکُلِّ سَہْوٍ‘ یَکُوْنُ فِی الصَّلَاۃِ کَذٰلِکَ أَیْضًا .
٢٥٠٩: عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ دوسری رکعت میں کھڑے ہوگئے لوگوں سے سبحان اللہ کہی جب انھوں نے چار مکمل کرلیں تو سلام کے بعد دو سجدے کئے پھر فرمایا جب تمہیں نماز میں وہم ہوجائے تو اسی طرح کیا کرو۔ یہ حضرت عمران بن حصین (رض) ہیں جو سلام کے دو سجدوں میں خرباق (رض) کے دن حاضر تھے ‘ وہ سجدے اس اضافے کی وجہ سے کیے گئے اور سلام کے بعد کیے گئے۔ پھر انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد فرمایا کہ وہ سجدے سلام کے بعد ہیں ‘ البتہ انھوں نے اس بات کی تفصیل نہیں کی کہ اضافے کی وجہ سے تھے یا نقصان کی بناء پر ۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ انھوں نے بھول کی وجہ سے جو دو سجدے کیے وہ نماز میں ہر قسم کی بھول جو نماز میں پیش آئے اس میں سہو کے دو سجدے ہیں۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٣٩٠۔