۲۵۱۰: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ‘ قَالَ : أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَنَّ خَالِدًا الْحَذَّائَ أَخْبَرَہُمْ‘ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ‘ عَنْ عِمْرَانِ بْنِ حُصَیْنٍ‘ قَالَ : فِیْ سَجْدَتَی السَّہْوِ‘ یُسَلِّمُ ثُمَّ یَسْجُدُ ثُمَّ یُسَلِّمُ .وَقَدْ ذَکَرَ الزُّہْرِیُّ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ سُجُوْدَ السَّہْوِ قَبْلَ السَّلَامِ‘ فَلَمْ یَأْخُذْ بِہٖ .
٢٥١٠: ابو قلابہ نے حضرت عمران بن حصین (رض) سے نقل کیا کہ انھوں نے سجدہ سہو کے متعلق فرمایا سلام پھیرے پھر سجدہ کرے پھر سلام پھیرے۔ آثار کے پیش نظر اس باب کا یہی حکم ہے۔ نظر و فکر کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص نماز میں بھول جائے اسی وقت سجدہ سہو نہیں کیا جاتا بلکہ اسے تاخیر سے کرنے کو کہا جاتا ہے۔
حاصل روایات : یہ عمران ہیں جنہوں نے خرباق (رض) کے معاملے کے موقعہ پر اضافے پر سلام کے بعد سجدہ کیا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد انھوں نے فرمایا سہو کے سجدے سلام کے بعد ہیں انھوں نے اس میں زیادتی یا نقصان کا فرق نہیں کیا اس سے یہ بات ثابت ہوگئی جب وہ آپ کے سجدہ سہو میں شریک تھے تو ان کے ہاں یہ بات ثابت تھی کہ سہو کا ہر سجدہ جو نماز میں پیش آئے وہ سلام کے بعد ہوگا۔