۲۵۱۲: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا شَیْخٌ‘ أَحْسَبُہٗ أَبَا زَیْدِ ڑ الْہَرَوِیَّ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ خَالِدِ ڑ الْحَذَّائِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ عَمِّہٖ أَبِی الْمُہَلَّبِ‘ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی بِہِمُ الظُّہْرَ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ‘ ثُمَّ سَلَّمَ وَانْصَرَفَ .فَقَالَ لَہُ الْخِرْبَاقُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ إِنَّک صَلَّیْتُ ثَلاَثًا‘ قَالَ : فَجَائَ فَصَلّٰی رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمَ‘ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَی السَّہْوِ‘ ثُمَّ سَلَّمَ) .
٢٥١٢: ابوالمہلب نے حضرت عمران بن حصین (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی اور تین رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا پھر نماز سے لوٹے تو آپ کو خرباق (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے تین رکعت نماز ادا کی ہے عمران کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور ایک رکعت نماز پڑھی پھر سلام پھیر دیا پھر سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
تخریج : مسلم فی المساجد ١٠١؍١٠٢۔
نمبر 1: امام و مقتدی کے نماز میں کلام کرنے کے متعلق اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ (رح) کے ہاں اصلاح نماز کے لیے امام و مقتدی کا باہمی کلام یا بھول کر کلام مفسد صلوۃ نہیں ہے۔
نمبر 2: ائمہ احناف کے ہاں ہر قسم کا کلام جو بھول کر کیا جائے یا اصلاح نماز سے متعلق ہو وہ نماز کے لیے مفسد ہے خواہ امام مقتدیوں سے کرے یا مقتدی امام سے ذیل میں ہم مؤقف اور دلائل کی وضاحت کریں گے۔
فریق اوّل کا مؤقف : امام و مقتدی کے نماز میں بھول کر کلام کرنے یا قصداً ایسا کلام کرنے سے جن میں نماز کی اصلاح ہو وہ درست ہے اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔