۲۵۱۱:حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ‘ قَالَ : ثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیْدِ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ‘ قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ : السُّجُوْدُ قَبْلَ السَّلَامِ؟ فَلَمْ یَأْخُذْ بِہٖ .فَھٰذَا وَجْہُ ھٰذَا الْبَابِ مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ .وَأَمَّا وَجْہُہٗ مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ‘ فَإِنَّا رَأَیْنَا الرَّجُلَ اِذَا سَہَا فِیْ صَلَاتِہٖ، لَمْ یُؤْمَرْ بِالسُّجُوْدِ لِلسَّہْوِ‘ سَاعَۃَ کَانَ السَّہْوُ‘ وَأُمِرَ بِتَأْخِیْرِہٖ۔ فَقَالَ قَائِلُوْنَ : إِلٰی مَا بَعْدَ السَّلَامِ‘ وَقَالَ آخَرُوْنَ : إِلَی آخِرِ صَلَاتِہٖ قَبْلَ السَّلَامِ وَکَانَ مَنْ تَلَا سَجْدَۃً فِیْ صَلَاتِہٖ، فَوَجَبَ عَلَیْہِ بِتِلَاوَتِہِ أَوْ ذَکَرَ وَہُوَ فِیْ صَلَاتِہٖ، أَنَّ عَلَیْہِ لِمَا تَقَدَّمَ مِنْہَا سَجْدَۃً أَنَّہٗ یُؤْمَرُ أَنْ یَأْتِیَ بِہَا حِیْنَئِذٍ‘ وَلَا یُؤْمَرُ بِتَأْخِیْرِہَا إِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ الْمَوْضِعِ مِنْ صَلَاتِہٖ .فَکَانَ مَا یَجِبُ مِنَ السُّجُوْدِ فِی الصَّلَاۃِ‘ یُؤْتٰی بِہٖ حَیْثُ وَجَبَ مِنْہَا‘ وَلَا یُؤَخَّرُ إِلٰی مَا بَعْدَ ذٰلِکَ‘ وَکَانَ سُجُوْدُ السَّہْوِ قَدْ أُجْمِعَ عَلَی تَأْخِیْرِہِ عَنْ مَوْضِعِ السَّہْوِ‘ حَتّٰی یَمْضِیَ کُلُّ الصَّلَاۃِ‘ لَا السَّلَامُ فَإِنَّہٗ قَدْ اُخْتُلِفَ فِیْ تَقْدِیْمِہِ قَبْلَ السُّجُوْدِ لِلسَّہْوِ‘ وَفِیْ تَقْدِیْمِ السُّجُوْدِ لِلسَّہْوِ عَلَیْہِ فَکَانَ النَّظَرُ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا أَنْ یَّکُوْنَ حُکْمُ السَّلَامِ الْمُخْتَلَفِ فِیْہِ‘ حُکْمَ مَا قَبْلَہٗ مِنَ الصَّلَاۃِ الْمُجْتَمَعِ عَلَیْہِ .فَکَمَا کَانَ ذٰلِکَ مُقَدَّمًا عَلَی سُجُوْدِ السَّہْوِ‘ کَانَ کَذٰلِکَ السَّلَامُ أَیْضًا مُقَدَّمًا عَلٰی سُجُوْدِ السَّہْوِ‘ قِیَاسًا وَنَظَرًا عَلٰی مَا ذَکَرْنَا. وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی ۔
٢٥١١: زہری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا کیا سجدہ سہو سلام سے پہلے ہے تو آپ نے اس کو اختیار نہ کیا۔ بعض حضرات نے اسے سلام کے بعد تک مؤخر اور دوسروں نے نماز کے آخر اور سلام سے پہلے تک مؤخر کیا۔ چنانچہ جو شخص سجدہ کی آیت تلاوت کرے یا اس کو یاد آیا کہ اس پر پہلے سجدہ سہو لازم ہے تو اسے اسی وقت ادائیگی کا حکم ہے۔ نماز میں کسی دوسری جگہ کے لیے مؤخر کرنے کا حکم نہیں اور نماز میں سجدہ تلاوت واجب ہو تو اسے اسی وقت ادا کیا جائے گا مؤخر نہ کیا جائے گا۔ البتہ بھول کا سجدہ نماز کے اختتام تک مؤخر کرنے کا حکم ہے اور اس پر تمام متفق ہیں۔ صرف اختلاف اس بات میں ہے کہ سلام سجدے سے پہلے کیا جائے یا سجدہ کو سلام سے مقدم کریں۔ قیاس تو یہی چاہتا ہے کہ وہ سلام جس میں اختلاف ہے وہ نماز کے اس حصہ کی طرح ہونا چاہیے جس میں اتفاق ہے۔ جب باقی نماز سجدہ سہو سے پہلے ہے تو سلام بھی اس سے پہلے ہونا چاہے۔ نظر و فکر اسی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہمارے امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد (رح) کا قول بھی یہی ہے۔
تخریج : اخرج فی معناہ ابو داؤد ١؍١٤٨۔
آثار کے لحاظ سے تو سلام کے بعد سجدے کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
نظر طحاوی (رح) :
جب نماز میں کسی کو سہو ہوجائے تو فی الفور سجدہ کا حکم نہیں ہے بلکہ تاخیر سے سجدہ کا حکم ہے اب وہ تاخیر کس قدر ہونی چاہیے اس میں اختلاف ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ سلام کے بعد تک مؤخر کیا جائے گا اور دوسرے کہتے ہیں کہ سلام سے پہلے تک مؤخر کیا جائے گا تو تاخیر پر اجماع ہوا۔ اب ہم نے نماز میں سجدہ تلاوت کے متعلق غور کیا تو معلوم ہوا کہ موضع تلاوت سے اس کی تاخیر جائز نہیں بلکہ اسی وقت سجدہ کا حکم ہے اور اگر بھول رہ جائے تو دوران نماز میں جب بھی یاد آجائے اسی وقت کرلیا جائے جیسا پہلے ذکر کیا کہ سجدہ سہو کی تاخیر پر تو سب کا اتفاق ہے فوری طور پر اس کا کرنا جائز نہیں البتہ افعال صلوۃ میں سلام سے بھی اس کو مؤخر کردیا جائے یا سلام سے پہلے کرلیا جائے اس میں اختلاف ہے۔ ہم نے دیکھا کہ سلام کے علاوہ تمام افعال کو سجدہ پر مقدم کرنا اتفاقی مسئلہ ہے صرف سلام مختلف فیہ ہوا تو مختلف فیہ کو متفق علیہ پر قیاس کرنا ضروری ہے پس تمام افعال صلوۃ سجدہ سہو پر مقدم کئے جانے ضروری ہیں تو سلام بھی تو افعال صلوۃ سے ہے پس اس کو بھی سجدہ سہو پر مقدم کرنا ضروری ہے۔
یہی ہمارے علماء ثلاثہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
حاصل کلام : : اس باب میں اپنے راجح قول کی تائید میں اپنے روایتی انداز سے آثار صحابہ کرام (رض) کو نقل کیا اور نظر کو آخر میں لائے اس سے اشارہ کیا کہ اصل دلیل تو روایات و آثار ہیں قیاس و نظر تو تائیدی دلیل ہے۔