hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2544

.

الطحاوي

2544
Al Tahawi
۲۵۴۴: حَدَّثَنَا فَہْدٌ وَأَبُوْ ذُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ‘ قَالَا : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا مِسْعَرٌ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْسَرَۃَ‘ عَنِ (النِّزَالِ بْنِ سَبْرَۃَ قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا وَإِیَّاکُمْ کُنَّا نُدْعَیْ بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ‘ فَأَنْتُمَ الْیَوْمَ‘ بَنُو عَبْدِ اللّٰہِ‘ وَنَحْنُ بَنُو عَبْدِ اللّٰہِ) یَعْنِیْ لِقَوْمِ النِّزَالِ .فَھٰذَا النِّزَالُ‘ یَقُوْلُ : قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَہُوَ لَمْ یَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ یُرِیْدُ بِذٰلِکَ : قَالَ لِقَوْمِنَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ طَاوٗسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ‘ فَلَمْ یَأْخُذْ مِنَ الْخَضْرَاوَاتِ شَیْئًا .وَطَاوٗسٌ لَمْ یُدْرِکْ ذٰلِکَ‘ لِأَنَّ مُعَاذًا إِنَّمَا کَانَ قَدْ قَدِمَ الْیَمَنَ‘ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَلَمْ یُوْلَدْ طَاوٗسٌ حِیْنَئِذٍ‘ فَکَانَ مَعْنٰی قَوْلِہِ : (قَدِمَ عَلَیْنَا) أَیْ قَدِمَ بَلَدَنَا .وَرُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہٗ قَالَ : خَطَبَنَا عُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ‘ یُرِیْدُ خُطْبَتَہٗ بِالْبَصَرَۃِ .فَالْحَسَنُ لَمْ یَکُنْ بِالْبَصَرَۃِ حِیْنَئِذٍ‘ لِأَنَّ قُدُوْمَہٗ لَہَا إِنَّمَا کَانَ قَبْلَ صِفِّیْنَ بِعَامٍ .
٢٥٤٤: عبدالملک بن میسرہ نے نزال بن سبرہ سے نقل کیا : قال لنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ انا وایاکم کنا ندعی بنی عبد مناف فانتم الیوم بنو عبداللہ ونحن بنو عبداللہ “ تولنا سے مراد نزال کی قوم مراد ہے کیونکہ نزال نے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا۔ حضرت طاوس (رح) سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں معاذ بن جبل (رض) تشریف لائے۔ انھوں نے سبزیات میں سے کوئی زکوۃ وغیرہ نہیں لی۔ حالانکہ طاوس نے تو حضرت معاذ (رض) کا زمانہ ہی نہیں پایا۔ کیونکہ حضرت معاذ (رض) کی یمن آمد جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ہوئی اور اس وقت تک طاوس کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔ پس ان کے قول ” قدم علینا “ کا معنی ہمارے علاقہ میں تشریف لائے۔ اسی طرح حضرت حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ ہمیں عتبہ بن غزوان (رض) نے خطبہ دیا۔ اس سے مراد ان کا بصرہ والا خطبہ مراد ہے۔ تو حسن اس وقت بصرہ میں نہ تھے۔ کیونکہ ان کی بصرہ میں آمد جنگ صفین سے ایک سال پہلے ہے۔ خود ان کی زبان سے سنیں روایت ذیل میں ہے۔
دوسرا ثبوت :
طاؤس کہتے ہیں : قدم علینا معاذ بن جبل (رض) فلم یأخذ من الخضرات شیئا ۔ تو طاؤس نے حضرت معاذکا زمانہ نہیں پایا کیونکہ معاذ (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف آخری وقت میں عامل بنا کر بھیجا اور اس وقت طاؤس پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ تو قدم علینا کا معنی قدم بلدنا وقومنا ہے ۔
تیسرا ثبوت :
حضرت حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ خطبنا عتبہ بن غزوان اس سے مراد بصرہ میں حضرت عتبہ کا خطبہ ہے اور اس وقت حسن بصری وہاں موجود نہ تھے بلکہ وہ تو جنگ صفین سے ایک سال پہلے بصرہ آئے یہ حضرت علی (رض) کے زمانہ کی بات ہے اور عتبہ ‘ عمر (رض) کے زمانہ میں بصرہ کے گورنر تھے۔