۲۵۴۵: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ‘ قَالَ : ثَنَا بْنُ إِدْرِیْسَ‘ عَنْ شُعْبَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ رَجَائٍ ‘ قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَتٰی قَدِمْتَ الْبَصْرَۃَ؟ فَقَالَ : قَبْلَ صِفِّیْنَ بِعَامٍ .فَکَانَ مَعْنٰی قَوْلِ النِّزَالِ (قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) وَمَعْنٰی قَوْلِ طَاوٗسٍ (قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاذٌ) وَمَعْنٰی قَوْلِ الْحَسَنِ (خَطَبَنَا عُتْبَۃُ) .إِنَّمَا یُرِیْدُوْنَ بِذٰلِکَ قَوْمَہُمْ وَبَلْدَتَہُمْ‘ لِأَنَّہُمْ مَا حَضَرُوْا ذٰلِکَ‘ وَلَا شَہِدُوْہُ .فَکَذٰلِکَ قَوْلُ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ ذِی الْیَدَیْنِ (صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) إِنَّمَا یُرِیْدُ صَلّٰی بِالْمُسْلِمِیْنَ لَا عَلٰی أَنَّہٗ شَہِدَ ذٰلِکَ‘ وَلَا حَضَرَہٗ .فَانْتَفٰی بِمَا ذَکَرْنَا أَنْ یَّکُوْنَ فِیْ قَوْلِہٖ (صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) فِیْ حَدِیْثِ ذِی الْیَدَیْنِ‘ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ مَا کَانَ مِنْ ذٰلِکَ‘ بَعْدَ نَسْخِ الْکَلَامِ فِی الصَّلَاۃِ .وَمِمَّا یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا أَنَّ نَسْخَ الْکَلَامِ فِی الصَّلَاۃِ‘ کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ أَیْضًا
٢٥٤٥: شعبہ نے ابو رجاء سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن (رح) سے دریافت کیا تم کب بصرہ میں آئے ؟ تو کہنے لگے صفین سے ایک سال پہلے آیا۔ پس حضرت نزال (رض) کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری قوم کو فرمایا۔ اسی طرح طاوس (رض) کے قول کا مطلب ” قدم علینا معاذ (رض) “ یہ ہے کہ ہمارے علاقہ میں حضرت معاذ تشریف لائے اور حسن (رح) کے قول ” خطبنا عتبۃ (رض) “ کا مطلب بصرہ والوں کو خطبہ دیا۔ (اور یہ معنی اس لیے لینا پڑا) کیونکہ یہ حضرات ان مواقع میں موجود ہی نہ تھے اور نہ موقعہ پر حاضر تھے۔ پس اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کا قول جو روایت ” ذوالیدین “ میں ہے ” صلی بنا رسول اللّٰہ ا “ سے مراد مسلمانوں کو نماز پڑھائی ‘ یہ معنی نہیں کہ وہ اس موقعہ پر موجود اور حاضر تھے۔ پس اس سے اس بات کی نفی ہوگئی کہ روایت ذوالیدین کے الفاظ صلی بنا رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی دلالت میسر آئے جس سے ثابت ہو کہ یہ نماز میں کلام کے منسوخ ہونے کے بعد واقعہ پیش آیا اور مدینہ منورہ میں نماز میں کلام کے منسوخ ہونے کی دلیل مندرجہ ذیل روایات ہیں۔
پس نزال کے قول قال لنا رسول اللہ اور طاوس کے قول قدم علینا معاذ (رض) اور حسن کا قول خطبنا عتبہ (رض) سے مراد قوم اور شہر کے لوگ ہیں کیونکہ یہ لوگ ان مواقع میں موجود اور حاضر نہ تھے پس حضرت ابوہریرہ (رض) کے قول کا بھی حدیث ذوالیدین میں صلی بنا کہنا یہی معنی رکھتا ہے ای صلی المسلمین یہ مطلب نہیں کہ وہ خود وہاں موجود تھے اور حاضر تھے پس حضرت ابوہریرہ (رض) کے اسلام سے نسخ کے متعلق استدلال باطل ہوگیا۔
مدینہ منورہ میں نسخ کلام کا مزید ثبوت کی روایات ملاحظہ ہوں۔