hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2549

.

الطحاوي

2549
Al Tahawi
۲۵۴۹: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ رَبِیْعُ ڑ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ قَالَ : سَأَلْتُ أَہْلَ الْعِلْمِ بِالْمَدِیْنَۃِ‘ فَمَا أَخْبَرَنِیْ أَحَدٌ مِنْہُمْ أَنَّہٗ صَلَّاہُمَا‘ یَعْنِیْ سَجْدَۃَ السَّہْوِ‘ یَوْمَ ذِی الْیَدَیْنِ .فَمَعْنٰی ھٰذَا عِنْدَنَا‘ وَاَللّٰہُ أَعْلَمُ‘ أَنَّہٗ إِنَّمَا یَجِبُ سُجُوْدُ السَّہْوِ فِی الصَّلَاۃِ اِذَا فَعَلَ فِیْہَا مَا لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یَفْعَلَ فِیْہَا .مِثْلَ الْقِیَامِ مِنَ الْقُعُوْدِ‘ أَوِ الْقُعُوْدِ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعِ الْقُعُوْدِ‘ أَوْ مَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ‘ مِمَّا لَوْ فُعِلَ عَلَی الْعَمْدِ‘ کَانَ فَاعِلُہٗ مُسِیْئًا .فَأَمَّا مَا فُعِلَ فِیْہَا‘ مِمَّا لَیْسَ بِمَکْرُوْہٍ فِیْہَا‘ فَلَیْسَ فِیْہِ سُجُوْدُ السَّہْوِ‘ وَکَانَ حُکْمُ الصَّلَاۃِ یَوْمَ ذِی الْیَدَیْنِ لَا بَأْسَ بِالْکَلَامِ فِیْہَا وَالتَّصَرُّفِ فِیْہَا .فَلَمَّا فَعَلَ ذٰلِکَ فِیْہَا عَلَی السَّہْوِ‘ وَکَانَ فَاعِلُہٗ عَلَی الْعَمْدِ غَیْرَ مُسِیْئٍ ‘ کَانَ فَاعِلُہُ عَلَی السَّہْوِ‘ غَیْرُ وَاجِبٍ سُجُوْدُ السَّہْوِ .فَھٰذَا مَذْہَبُ الَّذِیْنَ ذَہَبُوْا إِلٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَسْجُدْ یَوْمَئِذٍ .وَھٰذَا حُجَّۃٌ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الَّتِیْ بَیَّنَّاہَا فِیْ ھٰذَا الْبَابِ .وَکَانَ مَذْہَبُ الَّذِیْنَ ذَکَرُوْا أَنَّہٗ سَجَدَ یَوْمَئِذٍ‘ أَنَّ الْکَلَامَ وَالتَّصَرُّفَ‘ وَإِنْ کَانَا قَدْ کَانَا مُبَاحَیْنِ فِی الصَّلَاۃِ یَوْمَئِذٍ فَلَمْ یَکُنْ مِنَ الْمُبَاحِ یَوْمَئِذٍ‘ أَنْ یُّسَلِّمَ فِی الصَّلَاۃِ قَبْلَ أَوَانِ السَّلَامِ .فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِیُّ فِیْہَا سَلَامًا أَرَادَ بِہِ الْخُرُوْجَ مِنْہَا‘ عَلٰی أَنَّہٗ قَدْ کَانَ أَتَمَّہَا‘ وَکَانَ ذٰلِکَ مِمَّا لَوْ فَعَلَہٗ فَاعِلٌ عَلَی الْعَمْدِ‘ کَانَ مُسِیْئًا‘ لَا فَعَلَہٗ عَلَی السَّہْوِ‘ وَجَبَ فِیْہِ سُجُوْدُ السَّہْوِ .وَھٰذَا مَذْہَبُ أَہْلِ الْمَقَالَۃِ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ .
٢٥٤٩: ابو ذئب نے زہری سے نقل کیا ہے کہ میں نے مدینہ منورہ کے اہل علم سے سوال کیا تو ان میں سے کسی نے بھی ذوالیدین والی یہ خبر نہیں دی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن سہو کے سجدے کئے ہوں اس روایت کا مطلب ہمارے ہاں (واللہ اعلم) یہ ہے سجدہ سہو اس وقت لازم ہوتا ہے جبکہ نماز میں ایسا کام کرے جو کرنا مناسب نہ ہو مثلاً قعدے کو چھوڑ کر اٹھ جانا یا قعدے کی جگہ نہ تھی مگر قعدہ کردیا وغیرہ یعنی ایسے کام کہ اگر وہ جان بوجھ کر اختیار کرے تو وہ گناہ گار ہوگا اور اگر اس نے کوئی ایسا فعل کیا جو اس میں مکروہ نہیں تو اس میں سجدہ سہو نہیں ذوالیدین کے دن نماز میں کلام و تصرف میں پابندی نہ تھی جب انھوں نے بھول کر کیا جان بوجھ کر کرنے والا جب گناہ گار نہیں تو بھول کر کرنے والے پر سجدہ سہو واجب نہ ہوگا یہ ان لوگوں کے قول کے مطابق ہے جو اس دن سجدہ سہو کے قائل نہیں یہ مرجوح مذہب ہے۔ البتہ جمہور کے نزدیک سجدہ سہو کیا رہا کلام وغیرہ اگر یہ ان دنوں مباح تھیں تو مباح پر سجدہ سہو نہیں مثلاً سلام سے پہلے سلام پھیرنا جب نماز سے نکلنے کی نیت سے سلام پھیرا یہ سمجھتے ہوئے کہ آپ نماز پوری کرچکے اگر اس کو کوئی جان بوجھ کر کرے گا تو وہ گناہ گار ہے مگر آپ نے بھول کر کیا تو سہو کا سجدہ لازم ہوا۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے (واللہ اعلم) کہ سجدہ سہو نماز میں اس وقت لازم ہے جب کوئی ایسا عمل کرے جس کا اس مقام پر کرنا درست نہ ہو۔ مثلاً قعدہ کی بجائے قیام کرنا اور قعدہ کے بغیر قعدہ کرنا اور اسی طرح وہ افعال کہ جن کو جان بوجھ کر کرے تو کرنے والا گناہ گار ہوگا۔ البتہ جو مکروہ نہ ہوں ان کے کرلینے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا اور ذوالیدین والے دن نماز میں کلام کرنے اور کلام میں کسی اور قسم کا تصرف کرنے میں کوئی حرج و گناہ نہ تھا اور انھوں نے یہ عمل بھول کر کیا۔ تو جب جان بوجھ کر کرنے والا بھی گناہ گار شمار نہ ہوتا تھا تو بھول کر کرنے پر سجدہ سہو کیوں کر لازم ہوگا یہ ان لوگوں کی بات ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اس نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن سجدہ سہو نہیں کیا اور یہ دلیل بھی انہی لوگوں کی ہے۔ مگر جو حضرات اس دن سجدہ کے قائل ہیں ان کا مذہب یہ ہے کہ اگرچہ اس موقع پر نماز میں کلام و تصرف درست تھا مگر وقت سلام سے پہلے سلام پھیرلینا جائز نہ تھا۔ پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو اس وقت آپ نماز سے باہر آنے کا ارادہ فرما رہے تھے اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس کو قصد کے ساتھ کرنے میں گناہ گار ہوتا ہے اور بھول کرنے کی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے اور یہ ان لوگوں کا قول ہے جو اس روایت پر کلام کرتے ہیں۔