hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2550

.

الطحاوي

2550
Al Tahawi
۲۵۵۰: حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ‘ قَالَ : أَنَا یُوْنُسُ بْنُ بُکَیْرٍ‘ قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ‘ عَنْ یَعْقُوْبَ بْنِ عُتْبَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ غَطَفَانَ بْنِ طَرِیْفٍ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (التَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ‘ وَالتَّصْفِیْقُ لِلنِّسَائِ، وَمَنْ أَشَارَ فِیْ صَلَاتِہِ إِشَارَۃً تُفْہَمُ مِنْہُ فَلْیُعِدْہَا) .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْاِشَارَۃَ الَّتِیْ تُفْہَمُ اِذَا کَانَتْ مِنَ الرَّجُلِ فِی الصَّلَاۃِ قَطَعَتْ عَلَیْہِ صَلَاتَہٗ، وَحَکَمُوْا لَہَا بِحُکْمِ الْکَلَامِ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَا تَقْطَعُ الْاِشَارَۃُ الصَّلَاۃَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٢٥٥٠: ابو عطفان بن ظریف نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تسبیح مردوں کے لیے اور تصفیق عورتوں کے لیے ہے اور جس نے نماز میں ایسا اشارہ کیا جو مقصد کو ظاہر کرتا ہے وہ نماز کا اعادہ کرے۔ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز میں ایسا اشارہ کرے جو سمجھا جاتا ہو تو اس سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ انھوں نے اس پر کلام والا حکم لگایا اور انھوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرے علماء نے کہا کہ اشارہ نماز کو نہیں توڑتا۔ ان کی دلیل ذیل کی روایات ہیں۔
تخریج : روایت نمبر ٢٥٣٥ کی تخریج ملاحظہ کرلیں۔
حاصل روایات یہ ہے کہ ایسا اشارہ جس سے مقصد معلوم ہوجائے وہ نماز کو فاسد کردیتا ہے اور اشارے جس کا حکم کلام سے کمتر نہیں ہے۔
خلاصہ الزام :
نمبر 1: نماز کے دوران سلام اور دیگر امور کے لیے اشارہ جس سے مخاطب کو مقصد سمجھ آجائے یہ اہل ظواہر کے ہاں کلام کے حکم میں ہے اور مفسد صلوۃ ہے۔
نمبر 2: ائمہ اربعہ کے ہاں مفسد صلوۃ تو نہیں ہے البتہ مکروہ ضرور ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : ایسا اشارہ جس سے اشارہ کا مقصد معلوم ہوجائے وہ مفسد صلوۃ ہے اور اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اعادہ ضروری ہے جیسا اس روایت میں ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل : اشارہ کرنے سے نماز تو نہیں ٹوٹتی البتہ مکروہ ضرور ہے دلیل یہ روایات ہیں۔