hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2557

.

الطحاوي

2557
Al Tahawi
۲۵۵۷: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا عَاصِمٌ‘ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ‘ قَالَ : (قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ کُنَّا نَتَکَلَّمُ فِی الصَّلَاۃِ وَنَأْمُرُ بِالْحَاجَۃِ وَنَقُوْلُ السَّلَامُ عَلَی جِبْرَائِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَمِیْکَائِیْلَ وَکُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ یُعْلَمُ اسْمُہٗ فِی السَّمَائِ وَالْأَرْضِ .فَقَدِمْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَبَشَۃِ وَہُوَ یُصَلِّی‘ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ‘ فَأَخَذَنِیْ مَا قَدُمَ وَمَا حَدَثَ .فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہٗ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَزَلَ فِیْ شَیْئٌ ؟ قَالَ لَا‘ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا یَشَائُ) .
٢٥٥٧: ابو وائل نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں ہم نماز میں سلام کا جواب دے لیتے اور ضرورت کی بات کہہ لیتے اور کہتے جبرائیل پر سلام ہو میکائیل پر سلام ہو اور ہر اس صالح بندے پر سلام ہو جس کا نام معلوم ہو خواہ زمین میں ہو یا آسمان میں۔ پس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حبشہ سے آیا تو آپ کو نماز پڑھتے پایا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا تو میرے اوپر پریشانی طاری ہوگئی جب آپ نے نماز مکمل فرمائی تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میرے متعلق کوئی چیز اتری ہے ؟ فرمایا نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جس تازہ حکم کو چاہتے ہیں اتارتے ہیں۔ (یعنی کلام میں ممانعت کا حکم اتار دیا ہے)
تخریج : ای فی التوحید باب ٤٢‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٦٦‘ نمبر ٩٢٤۔