۲۵۵۸: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی‘ قَالَ : أَنَا إِسْرَائِیْلُ‘ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ‘ عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ خَرَجْتُ فِیْ حَاجَۃٍ‘ وَنَحْنُ یُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلٰی بَعْضٍ فِی الصَّلَاۃِ‘ ثُمَّ رَجَعْتَ فَسَلَّمْتُ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ وَقَالَ (إِنَّ فِی الصَّلَاۃِ شُغْلًا) .
٢٥٥٨: ابوالاحوص نے عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ میں کسی کام سے نکلا ہم نماز میں ایک دوسرے کو سلام کرلیا کرتے تھے پھر میں لوٹا اور میں نے سلام کیا مگر آپ نے جواب نہ دیا اور فرمایا بیشک نماز میں ایک خاص مشغولیت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں)
تخریج : بخاری فی العمل فی الصلاۃ باب ٢‘ ١٥‘ مسلم فی المساجد نمبر ٣٤‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٦٦‘ نمبر ٩٢٣‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٥٩‘ نمبر ١٠١٩ مسند احمد ١؍٣٦‘ ٤٠٩۔