۲۵۵۹: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ‘ قَالَ ثَنَا الْمَسْعُوْدِیُّ‘ عَنْ حَمَّادٍ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : (قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدِمْتُ مِنَ الْحَبَشَۃِ وَعَہْدِیْ بِہِمْ وَہُمْ یُسَلِّمُوْنَ فِی الصَّلَاۃِ‘ وَیَقْضُوْنَ الْحَاجَۃَ‘ فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّیْ‘ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ .فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہٗ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ لِلنَّبِیِّ مِنْ أَمْرِہٖ مَا یَشَائُ ‘ وَقَدْ أَحْدَثَ لَکُمْ أَنْ لَا تَتَکَلَّمُوْا فِی الصَّلَاۃِ‘ وَأَمَّا أَنْتَ أَیُّہَا الْمُسْلِمُ‘ فَالسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ) .
٢٥٥٩: ابراہیم نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ میں حبشہ سے لوٹا اور میرے زمانے میں نماز میں سلام کرتے تھے اور ضرورت کا کام کہہ لیتے تھے پس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں مصروف تھے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سلام کا جواب نہ دیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر پر جو نیا حکم چاہتا ہے اتارتا ہے اب نیا حکم تمہارے لیے یہ آیا ہے کہ تم نماز میں کلام مت کرو باقی تم اے سلام کرنے والے پس تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام و رحمت ہو۔
تخریج : بخاری فی التوحید باب نمبر ٤٢‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٦٦‘ نمبر ٩٢٤۔