hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2567

.

الطحاوي

2567
Al Tahawi
۲۵۶۷: مَا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : ثَنَا مُوْسَی بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ‘ قَالَ : سَأَلَ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوْسٰی‘ عَطَائً : أَسَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ یُسَلِّمُ عَلَیْکَ وَأَنْتَ تُصَلِّیْ‘ فَقَالَ : لَا تَرُدُّ عَلَیْہِ حَتّٰی تَقْضِیَ صَلَاتَک؟ فَقَالَ : نَعَمْ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الرَّدَّ الَّذِیْ أَرَادَ جَابِرٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ‘ ہُوَ الرَّدُّ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الصَّلَاۃِ‘ فَقَدْ وَافَقَ ذٰلِکَ‘ مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَدَلَّ مِنْ مَعْنَاہُ عَلٰی مَا ذَکَرْنَاہُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ ھٰذَا نَحْوٌ مِنْ ذٰلِکَ .
٢٥٦٧: سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے سوال کیا کیا تم نے جابر (رض) سے اس آدمی کا حکم معلوم کیا جو نماز کے دوران تم کو سلام کہے تو کہنے لگے کہ نماز پوری کرنے تک اس کو جواب مت دو ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ یہ ابن عباس (رض) ہیں جنہوں نے اپنی نماز میں مصروفیت کی حالت میں سلام کرنے والے کے سلام کا جواب نماز میں نہیں دیا بلکہ اس کی حرکت کو ناپسند کرتے ہوئے ہاتھ سے کچوکا دیا۔ جب حضرت ابن مسعود اور جابر (رض) جن دونوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی حالت میں خود سلام کیا تھا۔ انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس کو ناپسند کیا۔ تو اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ آپ کا نماز میں اشارہ سلام کے جواب کی خاطر نہ تھا بلکہ ممانعت کے لیے تھا کیونکہ نماز سلام کی جگہ نہیں ‘ کیونکہ سلام تو کلام ہے۔ اس کا جواب بھی کلام شمار ہوگا۔ پس جب نماز کلام کی جگہ نہیں ہے تو سلام کا جواب بھی کلام ہے۔ تو نماز اس کی جگہ نہیں۔ حالانکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جسم کے اطراف کو پر سکون رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔ ذیل کی روایت ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : اس سے معلوم ہوا کہ جابر (رض) کے ہاں رد سے مراد نماز سے فراغت کے بعد جواب دینا ہے یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روایت کے موافق ہے ابن عباس (رض) سے بھی اس کی تائید ملتی ہے ملاحظہ ہو۔