۲۵۶۶: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْکَابَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ‘ عَنِ الْأَعْمَشِ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَھٰذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَدْ کَرِہَ أَنْ یُسَلِّمَ عَلَی الْمُصَلِّیْ‘ وَقَدْ کَانَ سَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّیْ‘ فَأَشَارَ إِلَیْہِ .فَلَوْ کَانَتِ الْاِشَارَۃُ الَّتِیْ کَانَتْ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَدًّا لِلسَّلَامِ عَلَیْہِ اِذْ لَمَا کَرِہَ ذٰلِکَ‘ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَنْہَہُ عَنْہُ‘ وَلٰـکِنَّہٗ إِنَّمَا کَرِہَ ذٰلِکَ لِأَنَّ إِشَارَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِلْکَ‘ کَانَتْ عِنْدَہٗ نَہْیًا مِنْہُ لَہٗ عَنِ السَّلَامِ عَلَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّیْ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ قَالَ جَابِرٌ فِیْ حَدِیْثِکُمْ ھٰذَا (وَلَوْ سَلَّمَ عَلَیَّ لَرَدَدْتُ) قِیْلَ لَہٗ : أَفَقَالَ جَابِرٌ (لَرَدَدْتُ فِی الصَّلَاۃِ) قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ (لَرَدَدْتُ) أَیْ بَعْدَ فَرَاغِیْ مِنَ الصَّلَاۃِ .وَقَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ مِنْ مَذْہَبِہٖ ۔
٢٥٦٦: ابو معاویہ نے اعمش سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے روایت بیان کی۔
حاصل روایات : یہ جابر ہیں وہ نمازی کو سلام کرنا مکروہ قرار دے رہے ہیں انھوں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں سلام کیا تو آپ نے اشارہ کردیا۔
اگر یہ اشارہ سلام کا جواب ہوتا تو جابر (رض) آپ کو ناپسند کرتے کیونکہ آپ نے اس سے نہ روکا تھا اس کو جابر نے پسند اس لیے کیا کیونکہ آپ کا اشارہ جابر (رض) کے نزدیک نمازی کو سلام کی ممانعت پر دلالت کرتا تھا۔
اشکال :
حضرت جابر (رض) کے قول میں تو یہ لفظ ہیں کہ اگر مجھ پر کوئی سلام کرتا ہے تو میں جواب دیتا ہوں۔
جواب : کیا حضرت جابر (رض) نے یہ کہا ہے کہ میں نماز ہی میں جواب دیتا ہوں اور یہ عین ممکن ہے کہ لرددت ای بعد فراغی من الصلاۃ مراد ہو۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت سے یہ دلالت میسر آگئی کہ حضرت جابر (رض) نے پہلی روایت میں جس سلام کے لوٹانے کا تذکرہ کیا ہے وہ نماز سے فراغت کے بعد جواب دینا ہے اور یہ اس روایت کو موافق ہے جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہم نے نقل کی اور اس کا معنی اس پر دلالت کررہا ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی اسی طرح کی روایت آئی ہے۔ جو ذیل میں ہے۔
اور اگلی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔