۲۵۷۷: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ‘ وَرَوْحٌ‘ وَوَہْبٌ قَالُوْا : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنِ الْحَکَمِ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ صُہَیْبٍ‘ عَنِ (ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَہُوَ یُصَلِّیْ‘ وَأَنَا عَلٰی حِمَارٍ‘ وَمَعِیْ غُلَامٌ مِنْ بَنِیْ ہَاشِمٍ فَلَمْ یَنْصَرِفْ) .فَفِیْ حَدِیْثِ عُبَیْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہُمَا مَرَّا عَلَی الصَّفِّ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَا مَرَّا عَلَی الْمَأْمُوْمِیْنَ دُوْنَ الْاِمَامِ‘ فَکَانَ ذٰلِکَ غَیْرَ قَاطِعٍ عَلَی الْمَأْمُوْمِیْنَ وَلَمْ یَکُنْ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی حُکْمِ مُرُوْرِ الْحِمَارِ بَیْنَ یَدَیَ الْاِمَامِ .وَلٰـکِنْ فِیْ حَدِیْثِ صُہَیْبٍ‘ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَنْصَرِفْ) .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مُرُوْرَ الْحِمَارِ بَیْنَ یَدَیَ الْاِمَامِ أَیْضًا‘ غَیْرُ قَاطِعٍ لِلصَّلَاۃِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ عَنْہُ فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ أَبِیْ دَاوٗدَ أَنَّ الْحِمَارَ یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ فِیْ أَشْیَائَ ذَکَرَہَا مَعَہٗ فِیْ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ‘ قَالَ: (وَأَحْسَبُہٗ قَدْ أَسْنَدَہٗ) .فَھٰذَا الْحَدِیْثُ الَّذِیْ رَوَیْنَاہُ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ وَصُہَیْبٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ مُخَالِفٌ لِذٰلِکَ‘ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْلَمَ أَیُّہَا نَسَخَ الْأَمْرَ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٥٧٧: صہیب نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا جبکہ آپ نماز ادا فرما رہے تھے اور میں گدھے پر سوار تھا اور میرے ساتھ بنی ہاشم کا ایک غلام تھا پس آپ نماز سے نہ پھرے۔ حضرت عبیداللہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ وہ دونوں صف کے آگے سے گزرے تو یہ ممکن ہے کہ ان کا گزر مقتدیوں کے سامنے سے ہو نہ کہ امام کے سامنے سے۔ پس اس سے مقتدیوں کی نماز نہیں ٹوٹتی۔ اس میں گدھے کے امام کے سامنے سے گزرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر حضرت صہیب نے ابن عباس (رض) سے جو روایت کی ہے وہ یہ ہے کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے گزرا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے نہ پھرے۔ اس سے اس بات پر دلالت مل گئی کہ امام کے سامنے سے گدھے کے گزر جانے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ جبکہ فصل اوّل میں منقولہ ابن عباس (رض) کی روایت میں ہے کہ گدھا وغیرہ اشیاء مذکورہ نماز کو قطع کرنے والی ہیں اور وہ روایت ابن ابی داؤد نے مرفوع بیان کی ہے۔ یہ روایت جس کو صہیب و عبیداللہ نے ابن عباس (رض) سے بیان کیا ہے یہ اس کے خلاف ہے۔ پس اب ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ معلوم کریں کہ کس نے دوسری کو منسوخ ہوا۔ پس غور کے لیے مندرجہ روایات کو دیکھیں۔
تخریج : بخاری فی الصلاۃ باب ٩٠‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٢‘ نمبر ٧١٦۔
عبیداللہ نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ ہم دونوں صف کے آگے سے گزرے اس میں یہ احتمال ہے کہ مقتدیوں کے آگے سے گزرے ہوں اور اس سے مقتدیوں کی نماز میں فرق نہیں پڑتا اس میں دلیل نہیں کہ گدھے کا امام کے آگے سے گزرنے کا کیا حکم ہے۔ اور روایت صہیب میں ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے سے گزرا مگر آپ نماز سے نہیں پھرے۔
اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حمار اگر امام کے سامنے سے گزرے تو نماز کو قطع کرنے والا نہیں۔
ایک اشکال :
گزشتہ فصل میں ابن عباس (رض) کی روایت میں گدھے کے گزرنے کو نماز کا توڑنے والا قرار دیا گیا اور ابن ابی داؤد نے بھی اس کو مسند قرار دیا ہے اور عبیداللہ اور صہیب کی روایت میں اس کا الٹ ہے ان میں کون ناسخ ہے۔
جواب : ہم روایات کو پیش کر کے غور کرتے ہیں۔