hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2578

.

الطحاوي

2578
Al Tahawi
۲۵۷۸: فَإِذَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلٌ‘ عَنْ سُفْیَانَ‘ قَالَ : ثَنَا سِمَاکٌ‘ عَنْ عِکْرَمَۃَ‘ قَالَ : ذُکِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ؟ قَالُوْا : الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ .فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (إِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ) وَمَا یَقْطَعُ ھٰذَا‘ وَلٰـکِنَّہٗ یُکْرَہُ .فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (إِنَّ الْحِمَارَ لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ) فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا رَوٰی عَنْہُ عُبَیْدُ اللّٰہِ وَصُہَیْبٌ‘ کَانَ مُتَأَخِّرًا عَمَّا رَوَاہُ عَنْہُ عِکْرِمَۃُ مِنْ ذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ الْحِمَارَ‘ أَیْضًا‘ لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ.
٢٥٧٨: عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) کے ہاں تذکرہ کیا گیا کہ کون سی چیز نماز کو قطع کرنے والی ہے انھوں نے کہا کتا اور گدھا۔ اس پر ابن عباس (رض) نے کہا : الیہ یصعد الکلم الطیب (فاطر۔ ١٠٠) پھر یہ نماز کو نہیں توڑتے البتہ مکروہ ہے۔ یہ ابن عباس (رض) ہیں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد فرما رہے ہیں کہ ” گدھا نماز کو نہیں توڑتا “ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ عبیداللہ اور صہیبجواب روایت متاخر ہے جس کو عکرمہ نے ان سے بیان کیا۔ نیز فضل بن عباس (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس طرح کی روایت کی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ گدھا بھی نماز کو منقطع نہیں کرتا۔
تخریج : بیہقی فی السنن الکبرٰی ٢؍٢٧٧۔
حاصل روایات : یہ ابن عباس (رض) ہیں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد یہ فتویٰ دے رہے ہیں کہ گدھے کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس سے ثابت ہوگیا کہ عبیداللہ صہیب کی روایت متاخر روایت ہے۔
فضل بن عباس (رض) کی شہادت :
حضرت فضل (رض) بھی گدھے کے گزرنے کو قاطع صلوۃ نہیں مانتے۔
حاصل روایات : یہ ابن عباس (رض) ہیں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد یہ فتویٰ دے رہے ہیں کہ گدھے کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس سے ثابت ہوگیا کہ عبیداللہ صہیب کی روایت متاخر روایت ہے۔
فضل بن عباس (رض) کی شہادت :
حضرت فضل (رض) بھی گدھے کے گزرنے کو قاطع صلوۃ نہیں مانتے۔