۲۵۸۶: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدٍ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ فُدَیْکٍ‘ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ‘ عَنْ صَدَقَۃَ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (اِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّیْ‘ فَلاَ یَدَعَنَّ أَحَدًا یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ فَإِنْ أَبَی فَلْیُقَاتِلْہُ‘ فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَمَعْنٰی ھٰذَا مَعْنَیْ حَدِیْثِ أَبِیْ سَعِیْدٍ سَوَائٌ ‘ وَأَنَّ ابْنَ آدَمَ فِیْ مُرُوْرِہِ بَیْنَ یَدَیْ أَخِیْہِ الْمُصَلِّی‘ مُرُوْرٌ لِقَرِیْنِہِ أَیْضًا‘ بَیْنَ یَدَیْہٖ‘ وَہُوَ شَیْطَانٌ" .ثُمَّ قَدْ أُجْمِعَ عَلٰی أَنَّ مُرُوْرَ بَنِیْ آدَمَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ‘ فِیْ صَلَاتِہِمْ‘ لَا یَقْطَعُہَا‘ قَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَیْرِ وَجْہٍ .
٢٥٨٦: صدقہ نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ کسی کو اپنے سامنے سے مت گزرنے دے اگر گزرنے والا انکار کرے تو اس سے لڑے اس لیے کہ اس کے ساتھ شیطان ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ اس روایت کا مطلب اور ابو سعید (رض) والی روایت کا ایک ہی مطلب ہے اور انسان کا نمازی بھائی کے سامنے سے گزرنا وہ قرین شیطان کا گزرنا ہے۔ پھر اس پر تو تمام کا اتفاق ہے کہ انسانوں کے ایک دوسرے کے سامنے سے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی اور یہ بات جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعدد روایات میں آئی ہے۔ روایات ذیل میں ہیں۔
تخریج : بخاری فی الصلاۃ باب ١٠٠‘ بدء الخلق نمبر ١١‘ الحدود باب ٣٩‘ مسلم فی الصلاۃ نمبر ٢٥٨‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٠٧‘ نسائی فی القبلہ باب ٨‘ والقسامۃ باب ٤٧‘ دارمی فی الصلاۃ باب ١٢٥‘ مالک فی السفر نمبر ٣٣‘ مسند احمد ٣؍٣٤۔
حاصل کلام : اس روایت اور حدیث ابو سعید کا معنی یکساں ہے کہ انسان گزرے تو اس کے ساتھ بھی شیطان ہے جو نمازی کے سامنے سے اسے گزارتا ہے اور اس پر تو سب کا اتفاق ہے اگر انسان ایک دوسرے کے سامنے سے گزریں تو اس سے نماز تو نہیں ٹوٹتی اور یہ بات بہت سی روایات سے ثابت ہے۔
انسان کے گزرنے سے نماز نہ ٹوٹنے کی روایات ملاحظہ ہوں۔