۲۶۱۰: حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : ثَنَا شُرَیْحُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْہَرِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ عَنْ بِشْرِ ابْنِ الْحَارِثِ‘ سَمِعْتُ سَمُرَۃَ بْنَ جُنْدُبٍ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا‘ فَقَالُوْا : ھٰکَذَا یَفْعَلُ مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاۃٍ أَوْ نَسِیَہَا‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ یُصَلِّیْہَا مَعَ الَّتِیْ تَلِیْہَا مِنَ الْمَکْتُوْبَۃِ‘ وَلَیْسَ عَلَیْہِ غَیْرُ ذٰلِکَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا ۔
٢٦١٠: بشر بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے سمرہ بن جندب (رض) سے سنا کہ فرماتے تھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص نماز سے سو جائے یا بھول جائے جب یاد آئے پڑھ لے۔ انھوں نے مذکورہ بالا روایات سے استدلال کیا اور ان سے دیگر علماء نے اختلاف کیا اور کہا بلکہ وہ اس کو اپنی قریبی فرض نماز کے فرائض کے ساتھ ادا کرلے اور انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٢٢۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص سو جائے یا بھول کر اس سے نماز رہ جائے تو وہ جب یاد آئے اس وقت ادا کرے اور اگلے روز اسی وقت میں دوبارہ ادا کرے۔
مؤقف فریق ثانی و دلائل :
متروکہ نماز کو بعد میں آنے والی نماز کے فرائض کے ساتھ ادا کرے صرف ایک مرتبہ ہی ادائیگی لازم ہے۔ دلائل یہ ہیں :