hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2611

.

الطحاوي

2611
Al Tahawi
۲۶۱۱: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سَعْدِ ڑالسَّمُرِیُّ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ ابْنُ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ حَبِیْبِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ سَمُرَۃَ‘ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَمُرَۃَ‘ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سُلَیْمَانَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ (عَنْ سَمُرَۃَ أَنَّہٗ کَتَبَ إِلٰی بَنِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُہُمْ اِذَا شُغِلَ أَحَدُہُمْ عَنِ الصَّلَاۃِ‘ أَوْ نَسِیَہَا حَتّٰی یَذْہَبَ حِیْنُہَا الَّذِیْ تُصَلّٰی فِیْہِ أَنَّ یُصَلِّیَہَا مَعَ الَّتِیْ تَلِیْہَا مِنَ الصَّلَاۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ) .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ یُصَلِّیْہَا اِذَا ذَکَرَہَا‘ وَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ قَبْلَ دُخُوْلِ وَقْتِ الَّتِیْ تَلِیْہَا‘ وَلَا شَیْئَ عَلَیْہِ غَیْرُ ذٰلِکَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِحَدِیْثِ أَبِیْ قَتَادَۃَ وَعِمْرَانَ‘ وَأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ نَامَ عَنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ‘ فَصَلَّاہُمَا بَعْدَمَا اسْتَوَتْ‘ وَلَمْ یَنْتَظِرْ دُخُوْلَ وَقْتِ الظُّہْرِ) ، وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ بِأَسَانِیْدِہٖ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْمَوْضِعِ مِنْ ھٰذَا الْکِتَابِ .
٢٦١١: حبیب بن سلیمان نے سلیمان سے انھوں نے حضرت سمرہ (رض) سے نقل کیا کہ حضرت سمرہ (رض) نے اپنے بیٹوں کو لکھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں اس وقت حکم فرماتے جبکہ ہم میں سے کوئی نماز سے مشغول ہوجاتا (اور وہ نماز اس سے رہ جاتی) یا بھول جاتا اور نماز کا وقت گزر جاتا تو آپ فرماتے اس کو اس نماز کے ساتھ پڑھا جائے جو فرض نماز اس کے قریب ہے ‘ یہ دیگر حضرات نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا۔ بلکہ اسے اسی وقت ادا کرلے جب اسے یاد آئے خواہ اگلی نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے ہی ہو۔ اس پر اس قضاء کے علاوہ کوئی چیز لازم نہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں ابو قتادہ اور عمران اور ابوہریرہ (رض) کی روایات سے استدلال کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز صبح سے سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا تو آپ نے اس کو سورج کی دھوپ کے برابر ہونے پر ادا فرما لیا ‘ اس میں ظہر کے وقت کے داخل ہونے کا انتظار نہیں کیا۔ ہم اس روایت کو اس کے مکمل اسناد کے ساتھ دوسری جگہ ذکر کرچکے ہیں۔ دیگر روایات درج ذیل ہیں۔
تخریج : المعجم الکبیر ٧؍٢٥٤۔
حاصل روایات : بھول جانے والی نماز آئندہ فرض نماز کے ساتھ ادا کی جائے اور یہ ایک ادائیگی اس پر لازم ہے اور کچھ نہیں۔
مؤقف فریق ثالث : بھولی ہوئی نماز کو جب یاد آئے اسی وقت اوقات مکروہ کو چھوڑ کر ادا کرے قریب والی نماز کا انتظار ضروری نہیں۔
دلائل روایات ابو قتادہ ‘ عمران ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایات ہیں۔