۲۶۴۵: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ عَنْ کَثِیْرِ بْنِ فَرْقَدٍ‘ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَالِکٍ بْنِ حُذَافَۃَ حَدَّثَہٗ، عَنْ أُمِّہِ (الْعَالِیَۃِ بِنْتِ سُبَیْعٍ‘ أَنَّ مَیْمُوْنَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْہَا أَنَّہٗ مَرَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَیْشٍ‘ یَجُرُّوْنَ شَاۃً لَہُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ .فَقَالَ لَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ أَخَذْتُمْ إِہَابَہَا قَالُوْا : إِنَّہَا مَیْتَۃٌ قَالَ : یُطَہِّرُہَا الْمَائُ وَالْقَرَظُ) .
٢٦٤٥: عالیہ بنت سبیع (والدہ عبداللہ) کہتی ہیں کہ امّ المؤمنین میمونہ (رض) نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر قریش کے کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو ایک مردار بکری گدھے کی طرح کھینچ رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا اگر تم اس کی کھال اتار لیتے انھوں نے کہا یہ مردہ ہے فرمایا اس کو پانی اور بلوط کا چھلکا پاک کر دے گا۔ (یہ دباغت کا ان دنوں طریقہ تھا) القرط۔ بلوط کا درخت۔
تخریج : ابو داؤد فی اللباس باب ٣٨‘ نمبر ٤١٢٦‘ نسائی فی الفرع باب ٥‘ مسند احمد ٦؍٣٣٤۔